میرے ایوارڈ کا اخبار والوں کو پہلے علم ہوا: ڈاکٹر عادل حیدر

Image caption ڈاکٹر عادل حیدر کو امریکہ کا ایک اہم ایوارڈ ملا ہے جو امریکی عوام کی خدمت کے عوض دیا جاتا ہے

امریکہ میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر عادل حیدر کہتے ہیں کہ پاکستان میں طب کے شعبے میں ترقی تو ہوئی ہے لیکن ابھی بھی یہاں ہسپتالوں میں ٹراما سینٹرز کی اشد ضرورت ہے۔

بی بی سی کے عارف شمیم کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کراچی میں سول ہسپتال میں شہید بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر ہے اور جب یہ پوری طرح مکمل ہو جائے گا تو یہ ایک بہترین ٹراما سینٹر ہو گا لیکن ایک تو وہاں مین پاور بہت کم ہے اور دوسرے یہ کہ اتنے بڑے شہر کو ایک کی نہیں کئی ٹراما سینٹرز کی ضرورت ہے۔

امریکی شہر بوسٹن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عادل حیدر کو حال ہی میں ایک ایسے اہم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے جو اس سے پہلے امریکی صدور، نوبیل انعام یافتہ افراد اور کئی دیگر اہم شخصیات کو دیا جا چکا ہے۔ ان کے علاوہ ایلس آئلینڈ میڈل آف آنر عموماً دوسرے ممالک سے آئے ہوئے ان امریکی باشندوں کو دیا جاتا ہے جنھوں نے امریکی عوام کی خدمت تو کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت اور نسلیت کو اجاگر رکھا ہے۔

Image caption ڈاکٹر عادل حیدر نے آغا خان یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی

ایلس آئلینڈ میڈل آف آنر کی تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹر حیدر نے کہا کہ یہ پہلے بھی پاکستانیوں کو مل چکا ہے۔ ’یہ انعام ایلس آئلینڈ کے نام پر رکھا گیا ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں پہلے زمانے میں امریکہ آنے والے لوگ ایلس آئلینڈ پر آتے تھے اور یہاں ان کا سارا امیگریشن اور پیپر ورک ہوتا تھا۔ یہ ایوارڈ لوگوں کی اس خدمت کو سراہتا ہے جو وہ لوگ امریکہ کے لیے کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت اور نسلیت کو بھی لے کر چلتے ہیں۔ اور دوسرے نسلی گروہوں کے درمیان بھائی چارہ قائم رکھتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یہ ان امریکی شہریوں کو دیا جاتا ہے جو امریکہ کی بہت خدمت کرتے ہیں۔ ’

میں نے بہت سالوں سے نسلی عدم مساوات پر بہت کام کیا ہے اور ان لوگوں کے لیے کام کیا ہے جن کے پاس ہیلتھ کیئر حاصل کرنے کے اتنے مواقع نہیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ایک سیلیکشن کمیٹی ایوارڈ کے لیے لوگوں کو سلیکٹ کرتی ہے۔ ’مجھ سے انھوں نے کوائف تو بہت پہلے مانگے تھے اور مجھے کبھی ذرا بھی شبہ نہیں ہوا تھا کہ مجھے یہ ایوارڈ ملے گا لیکن مجھے مل گیا۔ حقیقت میں اخبار والوں کو پہلے پتہ چلا اور مجھے بعد میں۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا ٹراما سینٹرز نفسیاتی علاج بھی کر سکتے ہیں ڈاکٹر عادل حیدر نے کہا کہ اس کے لیے ابھی بڑے زیادہ کام کی ضرورت ہے۔ ’امریکہ میں جب فوجی واپس آتے ہیں تو ان کو بہت مدد درکار ہوتی ہے۔ ان کے علاج کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے لیکن سہولیات بہت کم ہیں اور بہت تھوڑے لوگ اس پر کام کر رہے ہیں۔‘

ڈاکٹر حیدر 1973 میں اوہایو میں پیدا ہوئے تھے اور اپنی ابتدائی تعلیم وہیں شروع کی تھی۔ لیکن 1980 کی دہائی میں ان کے والدین پاکستان واپس آ گئے۔ 1998 میں انھوں نے کراچی میں آغا خان یونیورسٹی سے میڈیسن کی تعلیم مکمل کی اور ایک سال بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے جہاں انھوں نے جان ہوپکنز یونیورسٹی سے پبلک ہیلتھ میں ماسٹرز کیا۔