’انڈین جاسوس‘ کلبھوشن یادو کو سزائے موت دینے کا فیصلہ

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین نیوی کے افسر کلبھوشن یادو جن کو گذشتہ سال مارچ میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس بلوچستان سے گرفتاری کیے جانے والے انڈین بحریہ کے افسر اور 'را' کے جاسوس کلبھوشن یادو کو فوجی عدالت نے سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پیر کو فوجی عدالت کے فیصلے کے تحت کلبھوشن یادو کو موت کی سزا دیے جانے کی توثیق بھی کر دی ہے۔

’کلبھوشن کی سزا پر عملدرآمد منصوبہ بندی سے کیا گیا قتل ہو گا‘

'بلوچستان سے انڈین ایجنسی را کا افسر گرفتار'

’وزیراعظم کلبھوشن یادو کا نام ضرور لیں گے‘

بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید نے اطلاع دی ہے کہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ انڈین جاسوس کا مقدمہ ایک فوجی عدالت یعنی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت چلایا گیا جس کے بعد انھیں سزائے موت سنائی گئی۔

ان کے بقول کلبھوشن کو قانونی تقاضوں کے مطابق اپنے دفاع کے لیے ایک وکیل بھی مہیا کیا گیا تھا۔

وزیرِاعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے رواں برس مارچ میں پاکستان کے ایوانِ بالا کو بتایا تھا کہ کلبھوشن یادو کو انڈیا کے حوالے کرنے کا کوئی امکان نہیں اور اُن کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

فوج کے بیان کے مطابق انڈین خفیہ ادارے 'را' کے ایجنٹ اور انڈین بحریہ کے افسر کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادو کو تین مارچ 2016 انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران بلوچستان کے علاقے ماشخیل سے پاکستان کے خلاف جاسوسی اور سبوتاژ کی کارروائیوں میں ملوث ہونے پرگرفتار کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

بیان میں کہا گیا ہے کہ کلبھوشن پاکستان میں حسین مبارک پٹیل کے نام سے سرگرم تھا اور اس کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے سیکشن 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن تین کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور ان کے خلاف تمام الزامات کو درست پایا گیا۔

فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ انھیں را نے پاکستان میں جاسوسی اور سبوتاژ کی کارروائیاں کرنے اور اسے عدم استحکام سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور انتظام کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

بیان کے مطابق شورش سے متاثرہ بلوچستان اور کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی امن عامہ کی صورتحال بہتر بنانے کی کوششوں کو متاثر کرنا بھی ان کی ذمہ داری تھی۔

یاد رہے کہ مارچ 2016 میں کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد ان کا ایک ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں وہ یہ اعتراف کرتے دکھائی دیے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کر رہے تھے۔

چھ منٹ دورانیے کی اس مشتمل ویڈیو میں کلبھوشن یادو نے بتایا تھا کہ انھوں نے سنہ 2013 میں را کے لیے کام شروع کیا اور وہ کراچی اور بلوچستان میں را کی جانب سے بہت سی کارروائیاں کرتے رہے ہیں اور وہاں کے حالات کو خراب کرتے رہے۔

انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے ایک بیان میں کلبھوشن یادو کے اعترافی بیان کی ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا بھارت کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں