پارلیمان کی دستور گلی کی تصویری جھلکیاں

پاکستان

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے زیرِ انتظام پیر کے روز ’دستور ہماری دستار‘ کے عنوان سے 45 واں یوم دستور منایا گیا۔

آئینِ پاکستان بنیادی حقوق، صوبائی خود مختاری، مقننہ اور قانون کی حکمرانی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔

گلئ دستور پارلیمنٹ کی عمارت کی وہ تاریخی راہداری ہے جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے پاکستان میں آئینی بالا دستی کو اجاگر کرنے اور محفوظ بنانے کے لیے مل کر کام کیا ہے۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ سینیٹ آف پاکستان وفاقی اکائیوں کے محافظ کے طور پر اُبھرا اور صوبوں کو اختیارات کی منتقلی پر تجاوزات کی چوکسی سے حفاظت کرتا رہا۔

سینیٹ کے اجلاس کے دوران ’یومِ دستور‘ کی تقریبات پر ہونے والے بحث کے دوران پاکستان میں حزبِ مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی ذہنیت ہے کہ جو شخص وردی میں ہے وہ محب وطن ہے اور جو شخص وردی میں نہیں وہ محبِ وطن نہیں اور ’پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے آج تک آئین کی بالادستی کو قبول نہیں کیا۔‘

سینیٹر مظفر حسین شاہ نے کہا کہ سینیٹ آئین کی محافظ ہے لیکن اُس کے اختیارات قومی اسمبلی سے بھی کم ہیں۔ اِن اختیارات میں مساوات وقت کی ضرورت ہے۔ اُن کے مطابق وزیرِ اعظم کے انتخاب اور سینیٹ میں ووٹنگ کے موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

حکمراں جماعت کے سینیٹر عبدالقیوم نے ایوانِ بالا کے اجلاس کے دوران یومِ دستور پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ’اِس میں کوئی شک نہیں کہ 1973 کا آئین ذوالفقار علی بھٹو کی بصیرت کا نتیجہ ہے کہ لیکن وہ بحیثیت ایک سابق فوجی یہ سمجھتے ہیں کہ آئین شکنی اداروں نے نہیں بلکہ افراد نے کی ہے اور دستور شکنوں کا جن سیاسی رہنماؤں نے ساتھ دیا وہ بھی بہت بڑی زیادتی تھی۔‘

1972 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں بنائے گئے عبوری آئین کا نسخہ دیکھا جا سکتا ہے۔

1973 میں پاکستان کا تیسرا آئین بنا جس کو ملک میں تمام حلقوں میں اتفاق رائے کے بعد منظور کر لیا گیا۔

گلئ دستور میں آویزاں اخباروں کے عکس جن میں دو فوجی آمروں کی منتخب حکومتوں کا تختہ الٹنے کی خبر شائع ہے۔

1973 کے آئین نے وفاق اور دو ایوانی پارلیمان کے لیے پاکستانی عوام کی طویل اور کٹھن جدو جہد کوایک آواز دی۔