خیبر پختونخوا کا چین کو گدھے برآمد کرنے کا فیصلہ

گدھا گاڑی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس منصوبے کے تحت صوبائی حکومت کی طرف سے گدھوں کی آفزائش کےلیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت کا کہنا ہے کہ چین کو گدھے برآمد کرنے کے منصوبے کی تمام تر شرائط رواں ماہ چین میں منعقد ہونے والے روڈ شو میں طے کی جائیں گی۔

ادھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس فیصلے پر لوگوں کی جانب سے طرح طرح کے مذاق پر مبنی آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے پاک چین راہداری منصوبے کے لیے خصوصی طورپر بنائی گئی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چین میں گدھوں کی مانگ میں اضافے کی خاطر ’خیبر پختونخوا چین پائیدار ڈنکی ڈویلپمنٹ منصوبے‘ کے نام سے ایک پروگرام تیار کیا جارہا ہے جس پر ایک ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

اس منصوبے کے تحت صوبائی حکومت کی طرف سے گدھوں کی افزائش کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ہوگا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں گدھوں کا شمار ایسے جانوروں میں ہوتا ہے جنھیں کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی لیکن چین میں اس کی بڑی مانگ ہے کیونکہ اس کے چمڑے کو وہاں اہم ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

صوبائی حکومت کے مطابق اس منصوبے کے تحت لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع بھی ملیں گے۔

ادھر دوسری طرف صوبائی حکومت کے اس فیصلے پر لوگوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر بحث کی جارہی ہے اور بیشتر افراد نے اس منصوبے کا مذاق اڑایا ہے۔

فیس بک اور ٹوئٹر کے بعض صارفین نے گدھوں کے تصویریں پوسٹ کرکے ان سے ایک قسم کا اظہار ہمدردی کیا ہے۔

فیس بک کے ایک صارف نوشیران قلندر نے لکھا ہے کہ ’پرویز خٹک سے معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ سی پیک میں خیبر پختونخوا کے حصے میں صرف گدھوں کا کاروبار ہی آیا ہے ۔‘

ایک اور صارف خالد خان نے کسی کو مخاطب کر کے لکھا ہے کہ 'گدھا کتنے کا بیچ رہے ہو جس کے جواب میں ایک اور صارف شاید احمد نے لکھا ہے کہ میں تو ادھر نہیں چین میں بیچوں گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوبائی حکومت کے اس فیصلے پر لوگوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث کی جارہی ہے

فیس بک کے کچھ صارفین نے جہازوں کو گدھوں کی شکل دے کر انہیں اپنے وال پر پوسٹ کیا ہے اور نیچے لکھا ہے کہ 'چلو چلو چین فری ٹکٹ میں'۔

گذشتہ دو تین دنوں سےاس منصوبے پر سوشل میڈیا پر اتنی بحث کی گئی ہے اور گدھوں کی اتنی تصویریں شائع کی گئی ہیں کہ اب تو بعض صارفین کی طرف سے یہ درخواست کی جارہی ہے کہ ان کے وال پر گدھوں کی مزید تصویریں یا اس قسم کی پوسٹ شیئر نہ کی جائیں کیونکہ ان کے صفحات پہلے ہی بھر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ چین میں گدھوں کی کھال کا کاروبار خاصا منافع بخش سمجھاجاتا ہے جہاں اسے مختلف قسم کی کریمیں بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

دو سال پہلے حکومت نے گدھوں کی نسل کو بچانے کی خاطر اس کی کھالوں کی بیرونِ ملک درآمد پر پابندی عائد کر دی تھی۔

وزارت کامرس نے اس سال کی ابتدا میں انکشاف کیا تھا کہ گذشتہ چار سالوں کے دوران تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے قریب گدھوں کی کھالیں مختلف ممالک کو برآمد کی گئیں جس سے کروڑوں روپے کا زرمبادلہ حاصل کیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں