سعودی اتحاد اور راحیل شریف، کیا پاکستان توازن برقرار رکھ پائے گا؟

راحیل شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام پر گذشتہ ہفتے امریکی کروز میزائلوں کے حملوں سے خطے کی صورت حال میں جو تباہ کن تبدیلی واقع ہوئی ہے اس نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

اس صورت حال کے پس منظر میں حکومت پاکستان کی طرف سے فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو سعودی اتحاد کا سربراہ بننے کی اجازت دینے کے فیصلے کو مزید پیچیدہ اور اہم بنا دیا ہے۔

کیا راحیل شریف کو قیادت کرنی چاہیے؟

’جنرل راحیل امت مسلمہ کے اتحاد کا سبب بنیں گے‘

’ایران اور سعودی عرب سے تعلقات میں توازن رکھیں گے‘

حکومت پاکستان کے اس فیصلے پر پاکستان کے دفاعی اور خارجہ امور کے ماہرین کے علاوہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے پہلے ہی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں اور اس فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت کے لیے آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے اس عسکری اتحاد کے اغراض و مقاصد واضح نہیں ہیں اور اس بات کا اعتراف حال ہی میں سینیٹ کی خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی میں خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ میں کیا گیا تھا۔

ایک ایسے اتحاد میں شامل ہونا جس کے اغراض و مقاصد ہی واضح نہیں ہیں، کیا واقعی ایک دانشمندانہ قدم ہو گا اور کیا پاکستان مشرق وسطیٰ میں متوازن خارجہ پالیسی برقرا رکھا پائے گا؟

پاکستان کی افواج کو یمن بھیجنے کے سعودی مطالبے پر پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعے عدم مداخلت کی پالیسی اپنانے کی رائے کا اظہار کیا تھا۔

شام میں پاکستان کے قریبی اتحادی ملک ترکی، سعودی عرب، ایران کے علاوہ امریکہ اور روس بھی آمنے سامنے ہیں اور اس دلدل میں مزید دھنستے چلے جا رہے ہیں۔

ایسی صورتحال میں فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو سعودی اتحاد کا سربراہ بننے کی اجازت دینے پر بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ کس طرح سے پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھ پاتا ہے کیونکہ ماضی میں بہت سارے مواقعوں پر پاکستان یہ توازن برقرار نہیں رکھ سکا۔

ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا ہے کہ اب یہ چلینج ہے کہ کس طرح سے اپنی خودمختار پالیسی کو برقرار رکھا جاتا ہے کیونکہ ایک تو سعوی عرب ہماری مالی مدد کرتا ہے اور دوسرا یہ کہ وزیراعظم نواز شریف کے سعودی شاہی خاندان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

پاکستان کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی اہلکاروں کی ماضی میں اور اس وقت سعودی عرب میں موجودگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا ہے کہ اس سے پہلے پاکستان کا کردار سعودی عرب کی سرحدوں کے اندر رہا ہے۔

'اب چونکہ مشرق وسطیٰ میں تنازع بڑھ رہا ہے جس میں سعودی عرب کا ایک بڑا ایجنڈا موجود ہے اور اس صورتحال میں اگر پاکستان نے سعودی سرحدوں کے اندر رہنے کی پالیسی برقرار رکھی تو شاید مسائل زیادہ نہیں بڑھیں گے لیکن اگر عرب کے باہمی تنازعات میں شریک ہو جاتا ہے تو اس صورتحال میں معاملات خراب ہو جائیں گے۔'

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کے ایران اور سعودی عرب سے مثالی تعلقات ہیں جن میں توازن برقرار رکھا جائے گا۔

دفتر خارجہ کے پالیسی بیان پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ اس وقت ایران اپنے خدشات کا اظہار کر رہا ہے لیکن اگر پاکستان اس وقت ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کو شروع کر دے اور اس کے ساتھ ایران کی جانب سے بجلی لینے کی پیش کش کو قبول کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد شروع کر دے تو شاید اس صورتحال میں ایران کے خدشات کم ہو جائیں۔

سابق سفارت کار ظفر ہلالی نے پاکستان کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال میں سابق فوجی سربراہ کو سعودی اتحاد کا سپہ سالار بنانے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں دیکھنے کی بات صرف یہ ہو گی کہ یہ اتحاد کام کس طرح کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ راحیل شریف کو این او سی دینے پر ایران کے خدشات کا بھی زیادہ جواز نہیں بنتا کیونکہ اس نے اپنے مفادات کے تحت انڈیا کو اپنی بندرگاہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاہم تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ ماضی کی فوجی اور سول حکومتوں اور بلخصوص موجودہ حکومت کے سعودی عرب سے خاص تعلقات ہیں جس کی وجہ سے جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو این او سی جاری کرنے کا اقدام اٹھایا گیا ہے جو کہ نہ صرف ایران اور اس کے اتحادیوں کے لیے ناراضی کا سبب بنے گا بلکہ اس سے مسلم دنیا میں نفاق پیدا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ iSPR
Image caption پاکستان کے ہمسایہ ملک ایران نے راحیل شریف کی تعیناتی پر اعتراضات کیے ہیں۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان فرقوں کی بنیاد پر اختلافات کی وجہ سے پاکستان میں ایک عرصے سے در پردہ جنگ یا پراکسی وار بھی دیکھنے میں آئی ہے جس میں حالیہ کچھ عرصے میں کمی ہوئی ہے لیکن اب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور پاکستان کے سعودی عرب کی جانب جھکاؤ کے نتیجے میں در پردہ جنگ کے دوبارہ سرگرم ہونے کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں۔

اس پر ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ پراکسی وار پہلے سے جاری ہے جس کی مثال کرم ایجنسی میں حالیہ عرصے میں ہونے والے شدت پسندی کے واقعات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس میں تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سوسائٹی پہلے ہی منقسم ہے اور ایسے معاشرے کا حوصلہ بلند نہیں ہوتا اور اس طرح کی صورتحال میں ایک کمزور سوسائٹی بن جاتی ہے۔

اسی بارے میں