’حماقت کا یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جب 10 اپریل کو دو پہر دو بجے کے بعد پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ انڈین بحریہ کے افسر اور 'را' کے مبینہ جاسوس کلبھوشن یادو کو آرمی ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی ہے تو اس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پورے دن اسی خبر کے چرچے جاری رہے۔

کلبھوشن یادو کو گذشتہ برس مارچ میں انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران بلوچستان کے علاقے ماشخیل سے پاکستان کے خلاف جاسوسی اور سبوتاژ کی کارروائیوں میں ملوث ہونے پرگرفتار کیا گیا تھا۔

’انڈین جاسوس‘ کلبھوشن یادو کو سزائے موت دینے کا فیصلہ

’کلبھوشن کی سزا پر عملدرآمد سوچا سمجھا قتل تصور ہو گا‘

’وزیراعظم کلبھوشن یادو کا نام ضرور لیں گے‘

ٹوئٹر پر جاری ٹرینڈز میں پاکستان کے پہلے دس ٹرینڈز میں سے دو ٹرینڈز کلبھوشن یادو کے بارے میں تھے جبکہ انڈیا سے بھی ایک بڑی تعداد میں لوگ اس فیصلے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

دونوں ملکوں کے درمیان موجود سیاسی اور عسکری کشیدگی کا ماحول سوشل میڈیا پر بھی نظر آیا۔

محمد عادل نے پاکستان سے تمسخرانہ ٹویٹ کی کہ 'اب انڈیا فینٹم ٹو فلم بنائے گا جس میں سیف پاکستان میں داخل ہو کر کلبھوشن کو بچائے گا'۔ ان کی ٹویٹ بالی ووڈ کی 2015 میں بنائی گئی فلم فینٹم کے حوالے سے تھی جس میں اداکار سیف علی خان نے 'را' کے ایک ایجنٹ کا کردار ادا کیا تھا جو پاکستان میں داخل ہو کر اپنا مشن پورا کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

دوسری جانب انڈیا سے انکیت گپتا نے اپنی ٹویٹ میں پاکستانی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے اور انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کو ٹیگ کرکے کہا ہے کہ کلبھوشن یادو کو بچایا جائے۔

ایک اور انڈین سرفراج نواج نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ 'آپ کی قوم کے لیے خدمات کو سلام، ہم سب پر کلبھوشن کا احسان رہے گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ادھر پاکستان سے عدیل اظہر نے کہا کہ 'ایک دن پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے کا ساتھ جینا سیکھ لیں گے اور کلبھوشن اور قصاب سے آگے بڑھ جائیں گے۔ یہ نہ ختم ہونے والی حماقت کا سلسلہ اب ختم ہو جانا چاہیے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

انڈیا سے منجری کے ہینڈل سے ٹویٹ کرنے والی صارف نے بھی اس رائے کا اظہار کیا کہ 'پاکستان، یاد رکھو کہ کلبھوشن کو قتل کرنا آخری غلطی ہوگا اور اس کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں کبھی بہتری نہیں آئے گی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

یاد رہے کہ وزیرِاعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے رواں برس مارچ میں پاکستان کے ایوانِ بالا کو بتایا تھا کہ کلبھوشن یادو کو انڈیا کے حوالے کرنے کا کوئی امکان نہیں اور اُن کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

فیصلہ آنے کے بعد انڈین وزارت خارجہ نے اپنے احتجاجی مراسلہ میں کہا کہ انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مقدمہ جس کے نتیجے میں کلبھوشن یادو کو سزا سنائی گئی، ان کے خلاف کسی بھی قابلِ اعتبار ثبوت کی غیرموجودگی میں 'مضحکہ خیز' ہونے کے سوا کچھ نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں