پیپلز پارٹی کے لاپتہ کارکنوں پر سوالات: کیا مقصد ’گیٹ زرداری‘ ہے؟

Image caption نواب لغاری کی ’گمشدگی‘ پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں احتجاج

پاکستان کے صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے قریب بتائے جانے والے کئی کارکنوں کی ’گمشدگی‘ پر بہت سے سوالات اٹھنے شروع ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں عدالت سے بھی رجوع کیا گیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں غلام قادر مری کی مبینہ گمشدگی کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے، جس پر 14 اپریل (جمعے) تک وفاقی و صوبائی حکومت اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز سے وضاحت طلب کرلی گئی ہے۔

آصف علی زداری کے ’فارم مینیجر‘ غلام قادر مری لاپتہ

غلام قادر مری سندھ میں لاپتہ ہونے والے ان افراد میں شامل ہیں جن کا پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری سے قریبی تعلق بتایا جاتا ہے۔

غلام قادر مری کے بارے میں یہ درخواست ان کے بھائی اسماعیل مری نے دائر کی ہے۔ اس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 4 اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی سے واپسی پر غلام قادر مری کو جام شورو کے قریب سے تین ساتھیوں سمیت جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ غلام قادر مری کسی بھی مقدمے میں ملوث نہیں ہیں اور اگر وہ کہیں ملوث قرار بھی دیئے گئے ہیں تو ان کی گرفتاری ظاہر کی جائے۔

غلام قادر مری ٹنڈو الہیار کے رہائشی ہیں اور وہ ٹنڈو الہیار کے علاوہ سانگھڑ اور بدین میں زرداری خاندان کی زرعی زمینیں سنبھالتے ہیں۔ اس علاقے میں گنے کی کاشت بھی اچھی ہوتی ہے۔ ابتدا میں وہ ایک چھوٹے زمیندار تھے لیکن بعد میں ایک بڑے زمیندار بن گئے۔

چند سال قبل آصف علی زرداری کے چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو کا ووٹ بھی ٹنڈو الہیار کے انتخابی حلقے میں درج کروایا گیا تھا، جہاں غلام قادر مری اثر و رسوخ رکھتے ہیں (وہ ضلعہ کاؤنسل کے رکن بھی ہیں)۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ghulam Qadir
Image caption غلام قدار مری آصف زرداری کے ساتھ

غلام قادر مری، بلوچ قوم پرست مزاحمت کاروں کے بھی قریب رہے ہیں۔ سنہ 1970 کی دہائی کی مزاحمتی تحریک کے رہنما شیر محمد عرف شیروف مری افغانستان سے واپسی پر جب حیدرآباد تشریف لائے تھے تو ان کے میزبان غلام قادر مری ہی تھے۔ کراچی میں مقیم نواب خیر بخش مری کے پاس بھی ان کا اکثر آنا جانا ہوتا تھا۔

سابق مشیر نواب لغاری بھی لاپتہ

غلام قادر مری سے قبل سابق مشیر نواب لغاری مبینہ طور پر اسلام آباد سے لاپتہ ہوگئے تھے۔ ان کی بیگم بدرالنسا نے اس گمشدگی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے اور عدالت نے وزرات داخلہ، وزرات دفاع اور پولیس کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

بدرالنسا نے موقف اختیار کیا ہے کہ 4 اپریل کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کے روپ میں اغوا کار آئے اور ان سے شناختی کارڈ طلب کیا اور کارڈ چیک کرنے کے بعد انہیں گاڑی میں ڈال کر ساتھ لے گئے۔

نواب لغاری کا تعلق سندھ کے ضلع دادو کے شہر خیرپور ناتھن شاہ سے ہے۔ انہوں نے سیاست کی ابتدا سندھی قوم پرست جماعت سے کی تھی۔ ان کا نام اس وقت سامنے آیا جب 30 ستمبر 1988 کو حیدرآباد میں فائرنگ کے واقعات میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔

اس واقعے نے بعد میں سندھی مہاجر لسانی فسادات کی شکل اختیار کرلی تھی۔ ان واقعات کا مقدمہ موجودہ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ قادر مگسی، جانو آرائیں اور نواب لغاری پر بھی دائر کیا گیا لیکن بعد میں عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا۔

نواب لغاری کے کزن رمضان لغاری نے بتایا کہ 1994 میں جب بینظیر بھٹو خیرپور ناتھن شاہ آئی تھیں تو نواب لغاری نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، جس کے بعد سے ان کا خاندان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہے۔

حیدرآباد میں جب 18 ستمبر 1997 کو سابق وفاقی سیکریٹری عالم خان عالمانی کو قتل کیا گیا تو ایف آئی آر میں آصف علی زرداری اور ان کے والد سمیت سات افراد پر یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا اور دو ماہ بعد اس مقدمے میں نواب لغاری کا نام بھی شامل کیا گیا تھا۔ (یہ تب کا ذکر ہے جب نواز شریف کی حکوت تھی اور آصف زرداری حراست میں تھے)۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آنے کے بعد آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور عالم عالمانی کے گھر گئیں تھیں، جس کے بعد دونوں فریقین نے صلح کرلی اور اور یوں عالمانی کا خاندان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گیا۔

نواب لغاری کو 2012 میں سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا خصوصی اسِسٹنٹ تعینات کیا گیا تھا، ان کے بارے میں بعض لوگوں کی رائے ہے کہ ابتدا میں وہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے قریب تھے۔

گزشتہ چند برس سے انھوں نے اسلام آباد میں رہائش اختیار کی ہوئی ہے اور ان کے بچے وہاں زیر تعلیم ہیں جبکہ ایک بچے کا علاج بھی مقامی ہپستال میں جاری ہے۔

اومنی گروپ سے وابستہ اشفاق لغاری بھی لاپتہ

اسی طرح کراچی سے اشفاق لغاری لاپتہ ہیں، جو اومنی گروپ کے ملازم تھے۔ اس گروپ کے سربراہ انور مجید بتائے جاتے ہیں جو آصف علی زرداری کے بزنس پاٹنر ہیں اور شُوگر ملز کا کاروبار سنبھالتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آصف علی زرداری کی وطن واپسی کے دن بھی اومنی گروپ پر رینجرز نے چھاپہ مارا تھا۔

اشفاق لغاری کے خاندان کا سیاسی پس منظر بھی قوم پرست رہا ہے۔ خاندان کے افراد سندھ ترقی پسند پارٹی، سندھ نیشنل پارٹی اور ورلڈ سندھی کانگریس میں رہے ہیں۔ اشفاق لغاری خود جام شورو میں واقع ایک گیس کمپنی میں ملازم تھے اور بعد میں کراچی میں اومنی گروپ سے وابستہ ہوئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ان مبینہ گمشدگیوں پر کہا ہے کہ ماضی کو دہرایا جارہا ہے۔ (ماضی میں آصف زرداری پر مختلف الزامات میں 12 مقدمات دائر کیے گئے تھے جن سے وہ بری ہوئے)۔

بول ٹی وی کے ساتھ بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے غلام قادر مری کا نام لیے بغیر کہا کہ 'میرا فارم مینیجر گرفتار ہوا ہے، پتہ نہیں کہ اسے کون لے گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ایک دوست ہیں لغاری، جو رات کو کہیں سے آرہے تھے کہ اغوا ہوگئے۔‘

ان کا کہنا تھا 'وہی طاقتیں دوبارہ افسانہ ہی افسانہ بنانا چاہتی ہیں لیکن وہ بھول گئی ہیں کہ ہمارے دوست یا ہمارے رفقاء چھوٹے چھوٹے کمزور لوگ ہیں، اُن کی بہت بڑی بڑی موٹی موٹی مرغیاں ہیں، انہیں چھوٹا سا ناخن لگ گیا تو بہت سا خون نکل آئے گا۔'

واضح رہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کی ضمانت پر رہائی اور شرجیل میمن کی واپسی پر یہ خیال کیا جارہا تھا کہ آصف علی زرادری اور اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں لیکن آصف زرداری کے مختلف معاملات سے وابستہ ان کارکنوں کی گمشدگیوں کے حالیہ واقعات اور آصف زرداری کے بیانات نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں