کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس

kulbhushan yadav تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے وزیر اطلاعات اور آئی ایس پی آر کے ترجمان نے مارچ 2016 میں کلبھوشن کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا

پاکستانی فوج کے ترجمان نے گذشتہ روز اعلان کیا کہ مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کو آرمی ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی ہے لیکن وہ پہلے ایسے بھارتی شہری نہیں ہیں جنھیں جاسوسی کے الزام میں پاکستان میں سزا سنائی گئی ہو۔

پاکستان میں پچھلے چار عشروں میں ایک درجن سے زیادہ بھارتی جاسوسوں کو سزا ہوئی جن میں بعض کو موت کی سزا سنائی گئی لیکن ان کی سزا پر کبھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ البتہ ان میں کئی لوگ جیل میں ہی وفات پاگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کلبھوشن پہلے بھارتی جاسوس تھے جو بلوچستان سے گرفتار ہوئے

کلبھوشن جادھو

پاکستان نے مارچ دو ہزار سولہ میں کلبھوشن جادھو کی گرفتاری کی خبر کے ہمراہ ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں اپنے اعترافی بیان میں وہ کہتے ہیں کہ وہ انڈین نیوی کے حاضر سروس افسر ہیں اور بلوچستان میں ان کی آمد کا مقصد ان بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات تھی جنھیں انڈیا امداد مہیا کرتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کلبھوشن جادھو نے حسین مبارک پٹیل کا نام اختیار کیا ہوا تھا اور بلوچستان میں ایران کی سرحد سے داخل ہوئے تھے۔ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کی گرفتاری کے بعد ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

کلبھوشن جادھو شاید پہلے ایسے بھارتی جاسوس تھے جو پنجاب سے باہر پکڑے گئے۔ ماضی میں اکثر بھارتی جاسوس پنجاب کے مختلف علاقوں سے گرفتار ہوئے اور ان کی اکثریت کا تعلق بھارتی پنجاب سے تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سربجیت سنگھ کی رہائی کے انڈیا میں مظاہرے کیے گئے

سربجیت سنگھ

سربجیت سنگھ کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے اگست 1990 میں گرفتار کیا تھا۔ انڈیا کا موقف تھا کہ نشے میں دھت ایک پنجابی کاشتکار کھیتوں میں ہل چلاتے ہوئے غلطی سے سرحد پار کر گیا تھا۔ پاکستان نے سربجیت سنگھ کے خلاف فیصل آباد، ملتان اور لاہور میں دھماکوں کے الزامات میں مقدمہ چلایا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔

فوجی حکمران پرویز مشرف کے اقتدار کے دوران جب انڈیا پاکستان کے مابین جامع مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا تو اس وقت انڈیا میں کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے سربجیت سنگھ کی رہائی کی مہم چلائی اور کئی بار ایسا لگا کہ حکومتِ پاکستان ان کو رہا کردے گی لیکن مذاکرات کی ناکامی کے بعد سربجیت سنگھ کی رہائی بھی کھٹائی میں پڑ گئی۔

سربجیت 2013 میں کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے ایک حملے میں زخمی ہو گئے اور جانبر نہ ہو سکے۔ سربجیت سنگھ کی لاش کو انڈیا کے حوالے کیا گیا اور انڈیا کی حکومت نے سربجیت سنگھ کو سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کیا۔

کشمیر سنگھ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر سنگھ جب تین عشرے پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد واپس انڈیا پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا

کشمیر سنگھ 1973 میں پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوئے اور جب پاکستان کی جیلوں میں 35 برس گزارنے کے بعد انھیں 2008 میں رہا کیا گیا تو انڈیا میں ان کا شاندار خیر مقدم کیا گیا۔

کشمیر سنگھ کی رہائی میں انسانی حقوق کے کارکن انصار برنی کی کوششوں کا بہت عمل دخل تھا۔ پاکستان میں موجودگی کے دوران کشمیر سنگھ نے ہمیشہ اپنے آپ کو بےقصور قرار دیا لیکن بھارتی سرزمین پر پہنچتے ہی انھوں نے اعتراف کیا کہ وہ جاسوسی کے لیے پاکستان گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ The Telegraph, India
Image caption رویندرا کوشک کو انڈیا میں ’بلیک ٹائیگر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے

رویندرا کوشک

رویندرا کوشک ایک ایسے بھارتی جاسوس تھے جو 25 برس تک پاکستان میں رہے۔ رویندرا کوشک راجستھان میں پیدا ہوئے۔ جب انھیں بھارتی اداروں نے بھرتی کیا تو وہ ایک تھیٹر آرٹسٹ تھے۔ اردو زبان اور مذہب اسلام کے بارے میں خصوصی تعلیم کے بعد انھیں نبی احمد شاکر کے نام سے پاکستان بھیجا گیا۔ پاکستان بھیجے جانے سے پہلے اننھوں نے ختنے بھی کروا لیے تھے۔ وہ نہ صرف بہت کامیابی سے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے، بلکہ انھوں نے پاکستان میں شادی بھی کر لی تھی اور ان کا بچہ بھی تھا۔

کراچی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ پاکستان افواج میں کلرک کے طور پر بھرتی ہوئے اور پھر ترقی کرتے ہوئے کمشنڈ افسر بن گئے اور پھر وہ ترقی کرتے ہوئے میجر کے عہدے تک پہنچ گئے۔ رویندرا کوشک کی گرفتاری ایک اور بھارتی جاسوس کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی جسے خصوصی طور پر میجر رویندرا کے ساتھ رابطے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

رویندرا کوشک کی گرفتاری کے بعد انھیں پاکستان کی مختلف جیلوں میں سولہ برس تک رکھا گیا اور 2001 میں ان کی موت جیل میں ہوئی۔

رام راج

تصویر کے کاپی رائٹ New18.com
Image caption رام راج پاکستان پہنچتے ہی خفیہ اداروں کے ہتھے چڑھ گئے

دو ہزار چار میں لاہور میں گرفتار ہونے والے رام راج شاید واحد ایسے بھارتی جاسوس تھے جو پاکستان پہنچتے ہی گرفتار ہوگئے۔ انھیں چھ برس قید کی سزا ہوئی اور جب وہ اپنی سزا کاٹ کر واپس انڈیا پہنچے تو انھیں بھارتی اداروں نے پہچاننے سے انکار کر دیا۔ وہ پاکستان آنے سے پہلے اٹھارہ برس تک بھارت کے خفیہ ادروں میں کام کر چکے تھے۔

سرجیت سنگھ

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption سرجیت سنگھ نے گرفتار ہونے سے پہلے پاکستان کے پچاسی دورے کیے

سرجیت سنگھ نے 30 برس پاکستانی جیلوں میں گزارے۔ سرجیت سنگھ کو 2012 میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا اور وہ واپس انڈیا پہنچے تو کشمیر سنگھ کے برعکس ان کا کسی نے استقبال نہ کیا۔ سرجیت سنگھ دعویٰ کرتے رہے کہ وہ پاکستان میں ’را‘ کا ایجنٹ بن کر گئے تھے لیکن کسی نے ان کی بات پر کان نہ دھرے۔

سرجیت سنگھ نے اپنی رہائی کے بعد بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے سے بات کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے رویے پر غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی حکومت ان کی غیر موجودگی میں ان کے خاندان کو 150 روپے ماہانہ پینشن ادا کرتے تھی جو اس بات ثبوت ہے کہ وہ `را‘ کے ایجنٹ تھے اور وہ گرفتاری سے پہلے پچاسی بار پاکستان کا دورہ کر چکے تھے جہاں وہ دستاویزات حاصل کر کے واپس لے جاتے تھے۔ سرجیت کی کہانی

گربخش رام

تصویر کے کاپی رائٹ News18.com
Image caption گربخش رام جب اپنا وقت پاکستان میں پورا کر کے واپس جانے لگے تو وہ پکڑے گئے

گربخش رام کو 2006 میں 19 دوسرے بھارتی قیدیوں کے ہمراہ کوٹ لکھپت سے رہائی ملی۔ گربخش رام پاکستان میں شوکت علی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اٹھارہ برس تک پاکستانی جیلوں میں رہے ۔ گربخش رام کو 1990 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ کئی برس پاکستان میں گزارنے کے بعد واپس انڈیا جا رہے تھے لیکن پاکستان کے خفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گئے۔

بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گربخش رام نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کو وہ سہولتیں دینے سے انکاری ہیں جو سربجیت سنگھ کے خاندان کو ملی ہیں۔ انھوں نے پنجاب کے چیف منسٹر پرکاش سنگھ بادل سے بھی ملاقات کی لیکن انھیں سرکاری ملازمت نہیں دی گئی ہے۔

ونود سانھی

تصویر کے کاپی رائٹ New18.com
Image caption ونود سانھی نے سابق جاسوسوں کی مدد کے لیے تنظیم قائم کر رکھی ہے

ونود سانھی 1977 میں پاکستان میں گرفتار ہوئےاور گیارہ برس پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد انھیں 1988 میں رہائی ملی۔

ونود سانھی نے اب انڈیا میں سابق جاسوسوں کی فلاح کے لیے ’جموں ایکس سلیوتھ ایسوسی ایشن‘ نامی تنظیم قائم کر رکھی ہے۔

وہ اپنی کہانی بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ٹیکسی ڈرائیور تھے جب ان کی ملاقات ایک بھارتی جاسوس سے ہوئی جس نے انہیں سرکاری ملازمت کی پیشکش کی۔ انھیں پاکستان بھیجا گیا لیکن جب وہ پاکستانی قید سے رہا ہوئے تو حکومت نے ان کی مدد نہیں کی۔