کشمیریوں کا قتل عام منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے: خواجہ آصف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں چند دن قبل سکیورٹی فورسز سے تصادم میں آٹھ کشمیری نوجوان ہلاک ہو گئے تھے

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کلبھوشن یادو کے معاملے پر انڈین وزیر خارجہ کے بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیر میں نہتے شہریوں کا قتل عام منصوبہ بندی کے تحت کر رہا ہے۔

انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج کے بھارتی پارلیمان میں دیئے گئے بیان کو رد کرتے ہوئے خواجہ آصف نے پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا میں کہا کہ کلبھوشن یادو کے مقدمے میں تمام تر ملکی قوانین کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تھا۔

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس

کلبھوشن کو بچانے کے لیے انڈیا کسی بھی حد تک جائے گا: سشما سوراج

'انڈین جاسوس' کلبھوشن یادو کو سزائے موت دینے کا فیصلہ

کلبھوشن یادو کی سزا پر انڈیا کا پاکستان سے احتجاج

نامہ نگار عبید ملک کے مطابق خواجہ آصف نے سشما سوراج کے اس بیان کو رد کر دیا کہ اگر کلبھوشن کو سنائے جانے والی سزا پر عملدرآمد کیا گیا تو یہ ایک سوچا سمجھا یا منصوبہ بندی کے تحت کیا ہوا قتل تصور کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

خواجہ آصف کے مطابق کلبھوشن یادو نے پاکستان میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ ایسا کرنے والوں کی سربراہی اور سرپرستی بھی کی۔ اس طویل تحقیقاتی مرحلے کے بعد تمام تر قوائد و ضوابط اور مُلکی قوانیں کو مدنظر رکھتے ہوئے گذشتہ روز کلبھوشن یادو کو سزائے موت سُنائی گئی ہے لیکن قانون کے مطابق ابھی اُن کے پاس اپیل کا حق موجود ہے۔ ‘

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا سینیٹ میں یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ایک بڑا واضح پیغام دینا چاہتے ہیں اور وہ یہ ہےکہ پاکستان میں کسی بھی غیر مُلکی یا مُلکی عناصر کو دہشت گردی یا اس مُلک میں امن و امان کی صورت حال کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اور اگر کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو قانون پوری قوت سے حرکت میں آئے گا اور پاکستانی ریاست یہ قابلیت رکھتی ہے کہ وہ اس طرح کے عناصر کی خلاف کاروائی کر سکے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے سینیٹ میں بیان کے بعد چئیرمین سینٹ رضا ربانی کاکہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے لگایا جانے والا یہ الزام بے بنیاد ہے کہ کلبھوشن یادو کو منصوبہ بندی کے تحت سزائے موت سُنائی گئی ہے، اور پاکستان کی جانب سے تمام تر قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سزا دی گئی ہے، اور اگر یہی معاملہ انڈیا میں ہوتا تو نہ تو اس طرح کی حقیقات کی جاتیں اور نہ ہی کسی قانون کو مدنظر رکھا جاتا۔

اسی بارے میں