جاسوسی کا الزام، لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار عزیر بلوچ پاکستانی فوج کی تحویل میں

عزیر بلوچ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ لیاری گینگ وار کے اہم کردار عزیر بلوچ کو فوج نے غیر ملکی خفیہ اداروں کو ملکی راز فراہم کرنے کے الزام کے تحت اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے منگل کو رات گئے ٹوئٹر پر شائع پیغامات میں بتایا گیا ہے کہ عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت فوجی تحویل میں لیا گیا۔

عزیر بلوچ پر عائد الزامات کی تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

آئی ایس پی آر کے سربراہ کے مطابق عزیر بلوچ پر ملک کی جاسوسی یعنی غیر ملکی خفیہ اداروں کو حساس حفاظتی معلومات کی فراہمی کا الزام ہے۔

ترجمان کی جانب سے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

یاد رہے کہ پاکستان رینجرز سندھ نے جنوری سنہ 2016 میں کراچی کے علاقے لیاری میں گینگ وار کے مرکزی کردار عزیر بلوچ کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عزیر بلوچ کے خلاف لیاری کے مختلف تھانوں میں قتل اور اقدام قتل سمیت بھتہ خوری کے کئی مقدمات درج ہیں جن میں سے ایک مقدمے میں حال ہی میں انھیں بری بھی کیا گیا تھا۔

عزیر بلوچ سنہ 2013 میں کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع ہونے کے بعد بیرون ملک چلے گئے تھے جس کے بعد سندھ حکومت نے کئی مرتبہ ان کے سر کی قیمت مقرر کی تھی۔

عزیر بلوچ نے لیاری امن کمیٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جس کے بارے میں متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم بھتہ خوری سمیت کئی جرائیم میں ملوث ہے، جس کے بعد ایم کیو ایم ہی کے مطالبے پر پیپلزپارٹی کی گذشتہ حکومت کے وزیرِ داخلہ نے لیاری امن کمیٹی پر پابندی عائد کر دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

اسی بارے میں