پاکستان انڈیا تعلقات پر ان گنت بری خبروں میں ایک اور کا اضافہ

کلبھوشن یادیو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کلبھوشن پہلے بھارتی جاسوس تھے جو بلوچستان سے گرفتار ہوئے

پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کے حوالے سے اچھی خبر تو کبھی کبھی سامنے آتی ہے لیکن اکثر بری خبریں چھائی رہتی ہیں۔

کلبھوشن یادو کا معاملہ بھی انہیں ان گنت بری خبروں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کی جانب سے اسے سزا موت سنائے جانے کا فیصلہ ان ابتری کی کھائیوں میں سے ایک اور انتہا تھی۔ اور کم از کم پاکستان کی حد تک خطرہ یہی محسوس کیا جا رہا ہے کہ یہ سزا مزید انتہا کے اقدامات کا کہیں سبب نہ بن جائے۔

٭ 'کلبھوشن کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے'

٭ کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس

٭ ’حماقت کا یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے‘

انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج کا انڈین پارلیمان میں ردعمل میں بیان بدقسمتی سے اسی جانب اشارے کر رہا ہے۔

ان کا کہنا کہ انڈیا اپنے شہری کو اس سزا سے بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا، یقیناً کوئی امن کی بانسری نہیں ہے جو انڈیا بجا رہا ہے۔

پاکستان میں اس بات پر سرکاری سطح پر تو ردعمل معلوم ہے کہ 'جب کچھ ہوگا تو دیکھ لیں گہ' لیکن عام شہریوں کی سطح پر یہ تشویش اور حیرت دونوں کا باعث ہے۔

تشویش اس بات پر کہ انڈیا پاکستان کو کس طرز کی 'تڑی' لگا رہا ہے؟ کیا وہ واقعی کوئی انتہائی 'عسکری حد' کی جانب اشارہ کر رہا ہے یا سفارتی انتہا کی؟

عسکری آپشنز نے تو دونوں ممالک کے تعلقات کا پہلے ہی بیڑہ غرق کیا ہوا ہے، اب اس میں مزید اس قسم کی کوئی بات بہتری تو نہیں لا سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خواجہ آصف کے مطابق کلبھوشن یادو نے پاکستان میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ ایسا کرنے والوں کی سربراہی اور سرپرستی بھی کی

دونوں ممالک کے لاکھوں کروڑوں باسیوں کی طرح جو صرف اور صرف امن کے خواہاں ہیں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تدبر اور عقلمندی اس قضیے کو نمٹنانے میں حاوی رہے گی بجائے اس کے کہ عوام کی نظروں میں کون زیادہ اونچی تڑی لگاتا ہے اور کیا کرتا ہے۔

اکثر لوگ کلبھوشن کے معاملے میں بھی پوچھتے ہیں کہ آیا پاکستان میں سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں۔ تو یہ معملہ تو سو فیصد ہے ہی فوج کے ہاتھ میں اور اس پر اس نے جو موقف اختیار کیا ہے اور جو بیانیہ دیا ہے اس کو تو جو بھی چیلنج کرنے کی کوشش کرے گا وہ اپنے لیے 'غداری اور انڈین ایجنٹ' جیسے القابات کی مکمل توقع رکھے۔

جاسوسوں کے معاملے میں شواہد جو بھی ہوں، دوسرے کا موقف کچھ بھی ہو جب ایک مرتبہ فوج نے اس پر ایک موقف اختیار کر لیا تو پھر اس میں اِدھر اُدھر دیکھنے کی گنجائش ہی نہیں۔ اور یہی سب کچھ سیاسی حکومت کی جانب سے بھی دکھائی دے رہا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمان میں فوجی فیصلے کا مکمل دفاع کیا ہے اور انڈین اعتراضات کو یکسر مسترد کیا ہے۔ یہ تو سیدھا سیدھا قومی سلامتی اور مفادات کے دفاع کا معاملہ ہے اس میں کھسر پھسر کی گنجائش ہرگز نہیں۔ عوامی سطح پر بھی اکثریت سرکاری موقف کی تائید میں چل رہی ہے کہ ایک شخص نے جب اپنے جرم کا اقرار کر لیا تو اب اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی، ہاں دوران حراست اقبالی بیان کی صحت پر کیا کوئی بات ہونی چاہیے یا نہیں اس پر بات کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جا رہی ہے۔

وزیر دفاع نے پارلیمان کو بتایا ہے کہ کلبھوشن کے لیے اب آرمی ایکٹ کے تحت 40 روز ہیں سزا کے خلاف فوجی اپیلٹ کورٹ میں اپیل کی۔ اس میں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اس کے خلاف وہ رحم کی اپیل فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور صدر پاکستان ممنون حسین کو کر سکتے ہیں۔ تو فل الحال انہیں فوری سزا دیے جانے کا امکان نہیں ہے لیکن ان کے بچ جانے کے امکانات بھی بہت کم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین وزیرِ خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے والے انڈین شہری کلبھوشن یادو کو بچانے کے لیے ہر حد تک جائیں گے

اگر سزا کے قواعد جلد پورے نہ کیے گئے تو ان کا قید میں کئی برس رہنا تو یقینی ہے۔ کلبھوشن کو کیا کسی ڈیل کے تحت انڈیا کے حوالے کیا جاسکتا ہے؟ اس کے بھی امکانات انتہائی کم دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسا کیا ہے جو انڈیا پاکستان کو کلبھوشن کے مقابلے میں دینے کی پیشکش کر سکتا ہے، ایسا کچھ بھی واضح نہیں۔ ایک سابق پاکستانی فوجی افسر کی نیپال میں گذشتہ دنوں گمشدگی کو اس سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس بابت کچھ ٹھوس دستیاب نہیں۔

انڈین نیوی کے افسر کلبھوشن یادو کے ساتھ ساتھ پاکستان انڈیا تعلقات بھی مستقبل قریب میں بہتری کی کوئی امید نہیں۔ ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے تعلقات داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں