’کراچی میں غیر جانبدارانہ مردم شماری نہ ہوئی تو گڑبڑ ہو گی‘

بلڈ

رحیم اللہ محسود سہراب گوٹھ میں ایک نجی کلینک میں چھوٹی سی بلڈ لیبارٹری میں کام کرتے ہیں۔ ان کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے اور وہ گذشتہ تین سالوں سے کراچی میں مقیم ہیں۔ یہاں انھیں روزگار اور تحفظ دونوں ہی حاصل ہیں، اس لیے ان کا مستقبل اسی شہر سے وابستہ ہے۔

رحیم اللہ کے مطابق جب ان کے گاؤں میں آپریشن شروع ہوا تو 'فوج نے کہا کہ آپ علاقہ خالی کردیں ہمیں آپریشن کرنا ہے۔ ہم پہلے ٹانک پہنچے اور وہاں ہمارا کاروبار وغیرہ کچھ نہیں تھا، اس لیے ہم کراچی آگئے اور اب میں یہاں لیبارٹری ٹیکنکیشن کا کام کررہا ہوں۔'

شہر کے داخلی علاقے سہراب گوٹھ میں ہی وزیرستان، سوات اور باجوڑ سے کئی ہزار خاندان آکر بس گئے ہیں۔ انھوں نے مزدوری کے علاوہ چھوٹے چھوٹے کاروبار بھی شروع کر رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ کورنگی اور منگھو پیر کی پہاڑی کاٹ کر، لانڈھی، ملیر اور گڈاپ سمیت کئی علاقوں میں اسی نوعیت کی نئی آبادیاں بن چکی ہیں۔

1998 کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی ایک کروڑ کے قریب تھی، جس میں 48 فیصد کی زبان اردو تھی جبکہ دوسری بڑی قومیت پشتون تھی۔ لیکن فوجی آپریشن، زلزلے، سیلاب اور پسماندہ علاقوں میں روزگار کے ذرائع کی عدم دستیابی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے باعث کراچی کا لسانی توازن اب تبدیل ہوچکا ہے۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے استاد فرحان صدیقی کا کہنا ہے کہ کراچی کے گذشتہ آٹھ دس سالوں سے جو حالات رہے ہیں اس وجہ سے کئی اردو سپیکنگ خاندان بیرون ملک یا اندرون ملک نقل مکانی کرکے جاچکے ہیں، جب یہ بات ہو کہ کراچی میں اردو سپیکنگ آبادی 40 فیصد ہے یا 45 فیصد ہے تو ان تمام عوامل کو بھی تجزیے میں شامل کیا جائے۔

متحدہ قومی مومنٹ کو کراچی کی اردو آبادی کی اکثریت کی نمائندگی حاصل رہی ہے۔ گذشتہ عام انتخابات میں شہر کی 80 فیصد اسمبلی کی نشستوں پر اس کے امیدوار کامیاب ہوچکے ہیں۔ قیادت کا الزام ہے کہ گذشتہ مردم شماری میں بھی شہری آبادی کم رکھی گئی تھی۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ یہ نہ کیا جائے کہ پہلے کراچی یا شہری علاقوں میں مردم شماری ہو اور اس کا نتیجہ دکھا کر غبارہ پھلا دیں اور مصنوعی گنتی کر کے دیہی آبادی کو آگے کردیں۔ 'ایسا کرکے ہمیں لڑائیں نہ کیونکہ اس طرح سے یہ خلیج بڑھ جائے گی۔'

انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ صاف، شفاف، ایماندارانہ اور غیر جانبدارانہ مردم شماری نہ ہوئی تو گڑ بڑ ہوگی۔

کراچی میں بڑے عرصے سے لسانی بنیادوں پر سیاست کا عروج رہا ہے، جس نے سیاسی اختلاف رائے کے بجائے قومی تعصب اور بعض اوقات لسانی تصادم کی شکل بھی اختیار کرلی تھی۔

حالیہ مردم شماری کے نتیجے میں اسمبلی کی نشستوں میں بھی اضافے کا امکان ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے لسانی، شہری اور دیہی تفریق کیا کم ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا دارودمدار شفاف اور غیرجانبدارانہ مردم شماری پر ہے۔

ماہر معاشیات اور تجزیہ نگار قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ نشستیں بھی بڑھیں گی اور سیاسی جماعتوں کی پوزیشن بھی تبدیل ہوگی۔ 'ہمارے یہاں بدقسمتی سے زبان اور نسل کے حوالے سے کچھ سیاست چل پڑی ہے، وہ طبقہ جن کی آبادی کی شرح کم ہوگی ان کی نشستیں بھی کم ہوں گی اور وہ طبقہ جن کی آبادی بڑھے گی تو ان کی سیٹیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں سیاسی کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔'

پاکستان میں مردم شماری آئینی ذمہ داری تو ہے لیکن اس پر عملدرآمد کئی سیاسی اور لسانی پیچیدگیوں اور کشیدگی کا باعث بنتا ہے اور اس وجہ سے ہر حکومت اس سے جان چھڑاتی آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

قائد اعظم یونیورسٹی کے استاد فرحان صدیقی کا کہنا ہے کہ ’تعداد میں کم ہونے کا ڈر یہ ہوتا ہے کہ اگر آبادی زیادہ ہوگی تو جو وسائل ہیں اور اس حوالے سے جو سیاسی اقدام ہیں اس میں زیادہ اہمیت ملے گی یعنی فلاں علاقے میں یہ لسانی گروپ اکثریت میں ہے اس کا صرف یہ ہی مقصد ہے کہ ہماری یہاں اہمیت ہے۔‘

کراچی میں تحریک انصاف، پاک سرزمین پارٹی، جماعت اسلامی اور جمیعت علما اسلام کا مردم شماری کے حوالے سے کوئی متحرک کردار نظر نہیں آتا۔ بعض قوم پرست جماعتیں اور عوامی نیشنل پارٹی سرگرم ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان مولا بخش چانڈیو نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ خود کو سندھی ظاہر کریں جس پر پیپلز پارٹی کی کراچی کی قیادت اور بلوچ حلقوں نے اعتراض کیا اور واضح کیا کہ جس کی جو مادری زبان ہے اسے وہی لکھنا چاہیے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما یونس بونیری کا کہنا ہے کہ کراچی میں پشتون مزدوری کرنے اور کاروبار کرنے آئے ہیں، سندھ سندھیوں کا ہے لیکن یہ کم از کم معلوم ہونا چاہیے کہ یہاں اردو آبادی کتنی ہے، پشتون کتنے ہیں، اسی طرح بلوچ اور پنجابی کتنے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس وقت تو کوئی یہاں اپنے آپ کو پچاس لاکھ سمجھتا ہے اور کوئی دو کروڑ سمجھتا ہے۔'

کراچی میں گذشتہ چار سالوں سے جاری آپریشن سے جہاں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے وہاں لسانی کشیدگی میں بھی کمی دیکھی گئی ہے، منصفانہ اور غیر جانبدرانہ مردم شماری اور اس کے نتائج جہاں متعلقہ اداروں کے لیے ایک چیلنج ہے، وہاں سیاسی جماعتوں کے شعور کا امتحان بھی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں