کرنل (ر) حبیب نامعلوم شخص سے ملے، شناخت کی کوشش جاری ہے: نیپال

تصویر کے کاپی رائٹ HABIB ZAHIR (FACEBOOK)

نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان کے سابق فوجی افسر کرنل (ر) حبیب ظاہر کی نیپال میں گمشدگی کے حوالے سے ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

نیپال پولیس کے ایس ایس پی تیپک تھاپا کا کہنا ہے کہ حکام کو جو سی سی ٹی وی فوٹیج ملی ہے اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لمبینی کے قریب بھیروا ہوائی اڈے پر ایک نامعلوم شخص کرنل حبیب کا استقبال کر رہا ہے۔

پاک فوج کے سابق افسر لاپتہ، نیپال میں تحقیقات کا آغاز

ایس ایس پی دیپک نے بی بی سی نیپالی سے بات کرتے ہوئے کہا 'ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ کرنل حبیب جہاز کے ذریعے کھٹمنڈو سے بھیروا پہنچے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کا استقبال ایک شخص نے کیا جس کی شناخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔'

نیپال کی پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کرنل حبیب جہاز سے دستی سامان اور بیک پیک کے ہمراہ اترے۔ فوٹیج کے مطابق انھوں نے خارجی گیٹ پر ایک 'نامعلوم شخص' کے ساتھ کچھ دیر باتیں کیں اور پھر دونوں اکٹھے چلے گئے۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ کرنل حبیب کی تصویر اور ویڈیو فوٹیج بھیروا ایئرپورٹ پر ٹیکسی ڈرائیورز اور دیگر ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو دکھائی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ اتوار کو نیپال کے دفتر خارجہ کے ترجمان بھرت راج نے کہا تھا کہ انھیں پاکستان کی جانب سے باقاعدہ طور پر 'پاکستانی فوج کے سابق افسر' کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے درخواست موصول ہونے پر نیپال کے دفتر خارجہ نے وزارت داخلہ اور پولیس کو تحقیقات کرنے کے احکامات جاری کیے۔

نیپال کی وزارت داخلہ کے ترجمان بال کرشنا پنتھی کا کہنا ہے کہ نیپال پولیس کے سپیشل بیورو کو اس معاملے کی تحقیقات میں کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

'ہمیں نہیں معلوم کہ وہ (کرنل حبیب) لمبینی کیوں گئے اور ان کا نیپال آنے کا مقصد کیا تھا۔ گذشتہ جمعرات کو لمبینی کے کسی ہوٹل میں ان کے نام سے کمرے کی بکنگ نہیں تھی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Airportia

نیپالی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کرنل حبیب کے فون کالز اور کمیونیکیشن کے حوالے سے دیگر معلومات حاصل کر رہے ہیں۔

کرنل (ر)حبیب ظاہر فوج سے 2014 میں ریٹائرڈ ہونے کے بعد سے فیصل آباد میں ملازمت کر رہے تھے۔ چند ماہ قبل انھوں نے اپنا سی وی لِنکڈان اور اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا تھا۔

پاکستانی اداروں کی جانب سے حبیب ظاہر کی ای میلز پر کی گئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انھیں مارچ میں 'سٹارٹ سولوشنز' نامی ویب سائٹ سے ایک ریکروٹر مارک تھامسن نے رابطہ کیا اور ای میل کے ذریعے ساڑھے تین ہزار سے ساڑھے آٹھ ہزار ڈالر کی تنخواہ پر نائب صدر اور زونل ڈائریکٹر (سیکیورٹی) کی پیشکش کی تھی۔

متعلقہ عنوانات