پاکستان اور انڈیا میں لفظوں کی جنگ عروج پر

سرحد تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی فوجی عدالت سے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کو سزا موت سنائے جانے اور پھر انڈیا کی وزیرخارجہ کی جانب سے ’کسی بھی حد تک بھی جانے‘ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستان اور انڈیا کے مابین عملاً جنگ چھڑ چکی ہے۔

کلبھوشن جادھو کے حامیوں نے ’کلبھوشن کو بچاؤ‘ (سیو کلبھوشن) کے عنوان سے فیس بُک پر ایک دو نہیں، بلکہ کئی صفحات بنائے ہیں اور بڑے پیمانے پر ان کی تشہیر کی جا رہی ہے۔

انڈیا کے جانب سے بعض لوگ اپنے حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ بلوچستان کو آزاد ریاست تسلیم کر لے۔

بھام باس لکھتے ہیں کہ انڈیا کو اپنی فوج کو اجازت دے دینی چاہیے کہ وہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو واپس لے لے۔ بھام باس یہ بھی چاہتے ہیں کہ انڈیا بلوچستان کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سوشل میڈیا پر پاکستانی نوجوان بھی بھارتی دھمکیوں کا ترکی بہ ترکی جواب دے رہے ہیں۔ امان اللہ لکھتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دہلی میں پنڈت سمجھ جائیں کہ (کلبھوشن کو سزا) دراصل دہشت گردی کو پاکستان برآمد کرنے کی قیمت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پاکستانی محمد منصور اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ کلبھوشن جادھو کو موت کی سزا ایک جوہری جنگ کی وجہ بن سکتی ہے۔ ان کے بقول ’جب ساری دنیا کی توجہ شام پر مرکوز ہے برصغیر ہند ایک تباہ کُن جوہری جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

کپل سبل اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ کلبھوشن جادھو کا معاملہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات مزید خراب کر سکتا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے کلبھوشن جادھو کو سزا سنانے کے فیصلے نے پاکستان اور انڈیا کے مابین سفارتی جنگ میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

بعض بھارتی سوشل میڈیا صارفین شکایت کرتے ہیں کہ پاکستان کلبھوشن جادھو کے معاملے میں سفارتی آداب کا لحاظ نہیں کر رہا ہے۔

ادتیا راج کول اپنے ایک پیغام میں لکھتے ہیں کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر تک رسائی نہیں دی ہے حالانکہ انڈیا نے پاکستان کو اجمل قصاب تک رسائی مہیا کی تھی۔ اس پر ایک دوسری صارف ادتیا راج کول کی تصحیح کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انھیں جاسوس اور دہشت گرد میں فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پاکستانی نوجوان بھی سوشل میڈیا پر انڈین شہریوں کے سوالات کا جواب دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ادتیا کول کو جواب دیتے ہوئےایک پاکستانی نوجوان انس ملک کہتے ہیں کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت جاسوس کو قونصلر تک رسائی کی اجازت نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سوشل میڈ یا پر متحرک پاکستانی صارفین انڈین شہریوں سے بعض سوالات کے جواب مانگ رہے ہیں۔ احمد حسن ظفر نے سوال اٹھایا کہ ’کیا پراپیگنڈے کے ماہر انڈین یہ بتا سکتے ہیں کہ اگر کلبھوشن جادھو ایک کاروباری شخصیت تھے تو انھیں جعلی پاسپورٹ کی ضرورت کیوں پڑی؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پاکستان کے ایک مشہور بلاگر عامر مغل جو خود ماضی میں پاکستان کے سویلین انٹیلی جنس ادارے آئی بی کے اہلکار رہ چکے ہیں، اپنے ملک کے ٹی وی اینکرز سے ناراض نظر آتے ہیں۔ عامر مغل ’بیوقوف‘ اینکروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ روس اور امریکہ میں سرد جنگ کے دوران جاسوسی کی تاریخ کا مطالعہ کریں ۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا سرد جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لیے ان کی رائے میں دونوں کو چاہیے کہ آپس میں قیدیوں کا تبادلہ کریں اور اس معاملے کو ختم کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

بھارت کے ایک بلاگر کلبھوشن جادھو کے معاملے پر ہونے والی لفظوں کی جنگ کا مطالعہ کرنےکے بعد اپنی رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’آخری بات یہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا دوست نہیں۔ پاکستان بالاخر شام بن جائے۔ وقت کو ڈیڈ لائن متعین کرنے دیں۔ جنگ کا کبھی فائدہ نہیں ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں