لاپتہ کارکنوں کا معاملہ: ثابت ہوا کہ طاقت کے سامنے آئین کی کوئی حیثیت نہیں، خورشید شاہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیپلز پارٹی نے 'لاپتہ کارکنوں' سے متعلق معلومات فراہم کرنے تک سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے

قائد حزب اختلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے دہشت گردوں اور مشتبہ افراد کو ضرور حراست میں لیں مگر چوبیس گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش بھی کریں۔

یہ بات انھوں نے منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کہی۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے پیپلز پارٹی کے دیگر اراکین کے ہمراہ یہ کہتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا کہ ملک میں ’آئین اور قانون کو ایک بار پھر چیلنج کیا جا رہا ہے۔‘

پیپلزپارٹی: کارکنوں کی ’گمشدگی‘ پر سوالات

واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے قریب بتائے جانے والے تین کارکنوں کی 'گمشدگی' پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں عدالت سے بھی رجوع کیا گیا ہے۔ لاپتہ ہونے والے ان کارکنوں میں غلام قادر مری، سابق مشیر نواب لغاری اور اومنی گروپ کے اشفاق لغاری شامل ہیں۔

نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق خورشید شاہ نے پیپلز پارٹی کے لاپتہ کارکنوں سے متعلق ٹھوس معلومات فراہم نہ کرنے کو حکومت کی کمزوری قرار دیتے ہوئے اسے ’حکومت کی مجرمانہ خاموشی‘ قرار دیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ ' کہیں ایسا تو نہیں کہ اس معاملے میں حکومت کے پر جلتے ہیں؟'

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں غلام قادر مری کی مبینہ گمشدگی کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے، جس پر 14 اپریل (جمعے) تک وفاقی و صوبائی حکومت اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز سے وضاحت طلب کرلی گئی ہے، سابق مشیر نواب لغاری کی بیگم بدرالنسا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے اور عدالت نے وزرات داخلہ، وزرات دفاع اور پولیس کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

پارلمینٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لیے کی گئی آئینی ترمیم میں چوبیس گھنٹوں کی شق اس لیے ڈلوائی گئی تاکہ لوگوں کو لاپتہ نہ کیا جا سکے۔ مگر 'چند دنوں میں ہی آئین میں شامل کی گئی اس ترمیم کی خلاف ورزی شروع کر دی گئی ہے'۔ انہوں نے ریاستی اداروں سے 'آئین اور قانون کی پاسداری' کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ ثابت ہوا ہے کہ طاقت کے سامنے آئین کی کوئی حیثیت نہیں ہے'۔

پیپلز پارٹی نے ’لاپتہ کارکنوں‘ سے متعلق معلومات فراہم کرنے تک سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے مختلف ایشوز پر واک آؤٹ کیا۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ارکان نے تین لاکھ پختونوں کے قومی شناختی کارڈز بلاک کرنے کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا، پیپلز پارٹی نے اے این پی کے ارکان سے اظہار یکجہتی کیا۔ متحدہ قومی موومنٹ، پختونخوا ملی عوامی پارمی، اور فاما اراکین نے بھی واک آؤٹ کیا۔ تاہم پیپلز پارٹی سمیت کسی سیاسی جماعت نےاجلاس کے دوران گزشتہ شب عزیر بلوچ کو پاکستانی فوج کی حراست میں لیے جانے سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا۔

اسی بارے میں