کرنل (ر) حبیب ظاہر کی گمشدگی پر غیرملکی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: دفترِ خارجہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کرنل (ر) حبیب ظاہر کو نیپال میں نوکری کا جھانسا دے کر پھنسایا گیا

پاکستان کا کہنا ہے کہ نیپال میں پاکستانی فوج کے سابق افسر کے لاپتہ ہونے میں غیرملکی ایجنسیوں کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے یہ بات جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں کہی۔

’لاپتہ‘ فوجی افسر: اب تک کی پیش رفت

’بھیروا ایئرپورٹ پر نامعلوم شخص نے استقبال کیا‘

پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ کرنل حبیب ظاہر سات دن قبل نیپال کے سرحدی شہر لمبینی سے لاپتہ ہو گئے تھے۔

ان کے بیٹے کی جانب سے ان کی گمشدگی کے حوالے سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں بھی یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ انھیں ’دشمن‘ خفیہ اداروں نے اغوا کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کرنل (ر) حبیب ظاہر کو نیپال میں نوکری کا جھانسا دے کر پھنسایا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اس سلسلے میں نیپالی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے اور نیپالی حکومت تفتیش میں ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔

کیا پاکستان اور نیپال کے متعلقہ ادارے لاپتہ ہونے والے ریٹائرڈ افسر کی تلاش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے رہے ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فی الحال وہ ایسی کسی پیشرفت سے آگاہ نہیں ہیں، 'تاہم تحقیقات کے لیے مشترکہ ٹیم تشکیل دی جا سکتی ہے، کیونکہ پاکستان کا شہری لاپتہ ہوا ہے'۔

خیال رہے کہ نیپالی حکام نے بدھ کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں پاکستان کے سابق فوجی افسر کی نیپال میں گمشدگی کے حوالے سے ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

نیپال پولیس کے ایس ایس پی تیپک تھاپا کا کہنا ہے کہ حکام کو اس شخص کی تلاش ہے جس نے لمبینی کے قریب بھیروا ہوائی اڈے پر حبیب ظاہر کا استقبال کیا تھا اور جس کے ساتھ وہ ہوائی اڈے سے روانہ ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ HABIB ZAHIR (FACEBOOK)
Image caption کرنل (ر)حبیب ظاہر پاکستانی فوج سے سنہ 2014 میں ریٹائر ہوئے تھے

انھوں نے بی بی سی نیپالی سے بات کرتے ہوئے کہا 'ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ کرنل حبیب جہاز کے ذریعے کھٹمنڈو سے بھیروا پہنچے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کا استقبال ایک شخص نے کیا جس کی شناخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔'

پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کرنل حبیب جہاز سے دستی سامان اور بیک پیک کے ہمراہ اترے۔ فوٹیج کے مطابق انھوں نے خارجی گیٹ پر ایک 'نامعلوم شخص' کے ساتھ کچھ دیر باتیں کیں اور پھر دونوں اکٹھے چلے گئے۔

اس سے قبل اتوار کو نیپال کے دفتر خارجہ کے ترجمان بھرت راج نے کہا تھا کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے درخواست موصول ہونے پر نیپال کے دفتر خارجہ نے وزارت داخلہ اور پولیس کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

خیال رہے کہ کرنل (ر)حبیب ظاہر فوج سے 2014 میں ریٹائر ہونے کے بعد سے فیصل آباد میں ملازمت کر رہے تھے۔

پاکستانی اداروں کی جانب سے حبیب ظاہر کی ای میلز پر کی گئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انھیں مارچ میں 'سٹارٹ سولوشنز' نامی ویب سائٹ سے ایک ریکروٹر مارک تھامسن نے رابطہ کیا اور ای میل کے ذریعے ساڑھے تین ہزار سے ساڑھے آٹھ ہزار ڈالر کی تنخواہ پر نائب صدر اور زونل ڈائریکٹر (سیکیورٹی) کی پیشکش کی تھی۔

پاکستانی حکام کے مطابق حبیب ظاہر کا دورۂ نیپال اسی ملازمت کے انٹرویو کے سلسلے میں تھا تاہم وہ وہاں پہنچ کر لاپتہ ہو گئے۔

اسی بارے میں