مردان: توہینِ مذہب کے الزام میں یونیورسٹی میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں طالب علم ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشتعل طلبا نے توہین رسالت کے الزام پر یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو تشدد کرکے ہلاک کردیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جہاں پر بقول پولیس کے مشتعل مظاہرین مقتول کی لاش کو جلانے کی کوشش کر رہے تھے۔

* پاکستان کا 'مشتعل ہجوم'

* 'ہجوم کرائے پر دستیاب ہے'

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ڈی پی او مردان ڈاکٹر میاں سعید احمد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے لاش اپنی تحویل میں لی۔

بیان میں ڈی پی او کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے بعد سرچ اپریشن کے دوران 59 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

طالب علم کی ہلاکت کا مقدمہ تھانہ شیخ ملتون میں درج کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس سے پہلے مردان پولیس کے ایک اہلکار نے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا تھا کہ اطلاعات کے مطابق یہ جھگڑا مبینہ گستاخانہ گفتگو کی بنیاد پر شروع ہوا جس پر کچھ طالب علم مشتعل ہوگئے۔ جس کے نتیجے میں ایک طالب علم ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ طالب علم فائرنگ سے ہلاک ہوا یا پھر جھگڑے کے دوران تشدد سے اس کی موت ہوئی۔

اس واقعے کے بعد عبدالولی خان یونیورسٹی اور مردان شہر میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے طالب علم کا نام مشعل تھا، اور وہ کچھ عرصہ ملک سے باہر بھی گزار چکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے بتایا کہ مشتعل ہجوم نے پہلے تو مشعل کے دوستوں کو مارنا شروع کیا تاہم وہاں موجود چند لوگوں نے جب انھیں بتایا کہ ان میں سے کوئی بھی مشعل نہیں تو ان افراد نے ان دو طالب علموں کو شدید زخمی کرنے کے بعد چھوڑ دیا۔

اطلاعات کے مطابق بعد میں چند طالب علموں نے مشعل کو ڈھونڈ کر پہلے تو مبینہ طور پر گولیاں ماریں اور پھر مبینہ طور پر ان کی لاش کو گھسیٹے ہوئے لے کر آئے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ہلاک ہونے والے طالب علم کا تعلق صوابی سے بتایا گیا ہے اور وہ یونیورسٹی میں شعبۂ صحافت میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

طالب علم کے ایک استاد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں یقین نہیں آ رہا کیونکہ مذکورہ طالب علم سے انھوں نے ایسی کوئی بات کبھی نہیں سنی تھی۔

اسی بارے میں