بچوں کی پورنوگرافک فلمیں، سرگودھا کا شہری گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ FIA
Image caption سعادت امین کا ناروے میں مقمیم جیمز لنڈسٹورم نامی ایک شخص سے رابطہ تھا جسے گذشتہ سال اکتوبر میں ناروے ہی میں گرفتار کیا گیا تھا

پاکستان میں تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے پنجاب کے شہر سرگودھا سے ایک شخص کو کم عمر بچوں کی پورنوگرافک فلمیں اور تصویریں بنانے اور انھیں ملک سے باہر فروحت کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

ایف آئی اے کے سائبر کرائم سیل لاہور نے ایک کارروائی کے دوران 45 سالہ سعادت امین نامی شخص کو سرگودھا میں ان کی رہائش سے حراست میں لیا۔

سعادت امین کا ذاتی کمپیوٹر قبضے میں لیا گیا ہے جس میں سے بڑی تعداد میں بچوں کی پورنوگرافک فلمیں اور نازیبہ تصویریں برآمد ہوئی ہیں۔

ایف آئی اے کے حکام کے مطابق یہ گرفتاری پاکستان میں ناروے کے سفارتخانے کی جانب سے پاکستان کی وزارتِ داخلہ کو مہیا کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔

سعادت امین کا ناروے میں مقمیم جیمز لنڈسٹورم نامی ایک شخص سے رابطہ تھا جسے گذشتہ سال اکتوبر میں ناروے ہی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

جیمز لنڈسٹورم نے تفتیش کے دوران ناروے کے حکام کو بتایا تھا کہ وہ بچوں کی پورنوگرافک فلمیں پاکستان کے شہر سرگودھا میں مقیم سعادت امین سے حاصل کرتا تھا۔

ایف آئی اے کے ایک تفتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ سعادت امین بچوں کی پورنوگرافک فلمیں روس اور بنگلہ دیش سے کام کرنے والی چند ویب سائٹس سے چوری کرتا تھا۔

یہ وہ ویب سائٹس ہیں جن تک رسائی صرف پیسوں سے خریدی جا سکتی ہے۔ سعادت امین ان ویب سائٹس کو ہیک کر کے یعنی ان کے سیکیورٹی کوڈز چوری کر کے ان تک رسائی حاصل کرتا تھا جہاں سے وہ خصوصاٌ بچوں کی پورنوگرافک فلمیں چوری کرتا تھا اور انھیں پیسوں کے عوض ناروے میں جیمز لنڈسٹورم کو بیچتا تھا۔

اس کے علاوہ سعادت امین کے قبضے سے سرگودھا میں اس کے رہائشی علاقے کے مقامی بچوں کی نازیبہ تصویریں اور فلمیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ بچوں کی یہ فلمیں اور تصویریں برہنہ حالت میں لی گئیں ہیں اور ان کے بنانے میں کمپیوٹر کا کیمرہ استعمال کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے افسر آصف اقبال کے مطابق بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کے یہ فلمیں بچوں کی رضامندی سے انھیں بہلا پھسلا کر بنائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعادت امین بچوں کو کپمیوٹر کی تعلیم دینے کے بہانے سے اپنی رہائش پر لے جاتا تھا جہاں وہ ان کو برہنہ کر کے ان کی تصویریں اتارتا تھا اور فلمیں بھی بناتا تھا۔

یہ فلمیں وہ ناروے اور سویڈن میں اپنے کلائنٹس کو بھیجتا تھا اور انھیں بیچنے کی کوشش کرتا تھا۔ آصف اقبال کا کہنا تھا کہ سعادت امین نے اس طریقے سے تقریباٌ پچیس بچوں کو استعمال کیا جن کی عمریں اٹھ سے چودہ سال کے درمیان ہیں۔

تاہم تاحال ابتدائی تفتیش کے دوران اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ اس نے کسی بچے کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا یا ایسی کسی ویڈیو کے بنانے میں استعمال کیا۔

ایف آئی اے کے مطابق سعادت امین نے یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا سے 1997 میں بی ایس سی کی ڈگری لی تھی۔ بنیادی طور پر منڈی بہاٰؤالدین سے تعلق رکھنے والے سعادت امین کی ملاقات ناروے میں مقیم جیمز لنڈسٹورم نامی شخص سے آن لائن ہوئی۔

ایف آئی اے کے مطابق وہ بنیادی طور پر کمپیوٹر ہیکنگ میں ملوث رہا ہے اور ایک ماہر ہیکر ہے۔

ابتدائی تفتیش کے دوران اس نے ایف آئی اے کو بتایا کہ جیمز لنڈسٹورم نے اسے پیشکش کی کے وہ اپنی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے اگر بچوں کی پورنو گرافک فلمیں چوری کر کے دے تو اس کو اس کام کا بھاری معاوضہ دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایف آئی اے کے مطابق سعادت امین اس کاروبار میں 2007 سے ملوث ہے۔ فائل فوٹو

ایف آئی اے کے مطابق سعادت امین اس کاروبار میں 2007 سے ملوث ہے۔ اس نے تفتیش کے دوران بتایا کہ وہ ایک فلم سو سے دو سو یورو یعنی دس سے بیس ہزار پاکستانی روپوں کے عوض بیچتا تھا۔

وہ ناروے میں اپنے کلائنٹ کو یہ فلمیں انٹرنیٹ پر ایک ویب سائٹ ٹیلیگرام کے ذریعے بھیجتا تھا جبکہ اس کو پیسوں کی ادائیگی ویسٹرن یونین کے ذریعے کی جاتی تھی۔ ایف آئی اے کے افسر آصف اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کی مالی لین دین کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ابتدائی طور پر حاصل کی گئی معلومات کے مطابق آصف اقبال کا کہنا تھا کہ سعادت امین نے گزشتہ دس برسوں کے دوران لاکھوں روپے اس کاروبار سے کمائے ہیں۔ اس کے بین الاقوامی لین دین کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کے اس نے سب سے زیادہ کاروبار گزشتہ سال میں کیا ہے۔

آصف اقبال کا کہنا تھا کہ بظاہر سرگودھا کی مقامی پولیس سعادت امین کی ان کارروائیوں سے کسی حد تک باخبر تھی تاہم انھوں نے معاملے کی سنگینی کا اندازہ نہیں لگایا۔

ایف آئی اے نے عدالت سے سعادت امین کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی کے جائے گی کے آیا وہ یہ کام اکیلا کر رہا تھا یا اس کے ساتھ اور لوگ بھی شامل تھے۔

آصف اقبال کا کہنا تھا کہ انھوں نے ویسٹرن یونین کو بھی خط لکھ کر سعادت امین کی گذشتہ چند سالوں کے دوران ہونے والے لین دین کی تفصیل مانگی ہے جس یہ پتہ لگانے میں مدد ملے گی کہ اس کے کن ملکوں میں روابط تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں