’ہم عفریت ہیں، ہمارے ہاتھ خون سے رنگے ہیں‘

ٹوئٹر تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

مردان میں توہینِ مذہب کے الزام میں طالب علم کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کافی شدید ردِ عمل سامنے آ رہا ہے جہاں طالبِ علم کو تشدد کرکے ہلاک کیے جانے کی کڑے الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔

اس وقت ٹوئٹر پر مردان اور ہلاک ہونے والے طالب علم مشعل خان کا نام ٹرینڈ کر رہا ہے۔

بعض سوشل میڈیا صارفین کا موقف ہے کہ توہینِ مذہب کو اب ہتھیار کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایک صارف نے ٹویٹ کیا ’سچ تو یہ ہے کہ توہینِ مذہب ایک ہتھیار ہے جسے کوئی بھی کسی کے بھی خلاف استعمال کر سکتا ہے۔

اداکارہ ماہرہ خان نے واقعے کی خبر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’ہم سب عفریت ہیں ، ہم نے عفریت پیدا کر دی ہیں۔ ہمارے ہاتھ خون سے رنگے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

سماجی کارکن جبران ناصر نے ٹویٹ کیا کہ ’ممتاز قادری کی تعریف کرنے اور دوسروں کو ایسے ہی اقدام کرنے پر اکسانے والے علما ایسے معاشرے کے لیے ذمہ دار ہیں جہاں ایک ہجوم یونیورسٹی میں داخل ہو کر ایک طالب علم کو ہلاک کر دیتا ہے۔‘

جبران ناصر نے قتل کیے جانے والے طالب عمل مشعل خان کی حال ہی میں کی گئی ٹیوٹ کو بھی ری ٹویٹ کیا جس میں انھوں نے لکھا تھا ’یا تو مجھے لاعلمی سے نواز دے یا مجھے اتنی طاقت دے کہ میں علم کو برداشت کر سکوں۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹویٹ میں کہا ہے ’میں مردان میں طالب علم کے قتل کے حوالے سے گذشتہ رات سے کے پی کے آئی جی سے روبطے میں ہوں۔ جنگل کا قانون نہیں چل سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایک صارف ضرار کھوڑو نے لکھا ’پیارے حکمرانو جس آگ کو آپ لوگ ہوا دے رہے ہیں اس میں پہلے ہماری جھونپڑیاں اور گھر جلیں گے لیکن تمہارے محل بھی اسی میں جل جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

صحافی احمد نورانی نے ٹویٹ کیا کہ ’یہ وقت کے پاکستانی سامنے آئیں اور ان اینکرز، کالم نگاروں اور ججوں کو ایک مثال بنا دیں جو شہریوں پر توہینِ مذہب کے جھوٹے الزامات عائد کرتے ہیں۔‘

سماجی کارکن ماروی سرمد نے لکھا ہے کہ انھوں نے مردان واقعے کی ویڈیو دیکھی جو دل دہلا دینے والی تھی۔ ’بدقسمتی سے ریاست نے خود ہی اس آگ کو ہوا دی ہے۔ یہ آگ ہماری دہلیز پر تیزی سے پہنچ رہی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایک سوشل میڈیا صارف ماہا نے ٹویٹ کیا کہ ’تصور کریں کہ مذہب کہ ہاتھوں کوئی اتنا بے حس اور اندھا ہو جائے کے اپنے سامنے ایک ہجوم کے ہاتھوں کسی کو قتل ہوتا دیکھے، کیا یہ تشویش ناک بات نہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ٹوئٹر ہینڈل عبدالمجید خان نے لکھا کہ 'ہم جنگجوؤں کے خلاف منفرد نام رکھ کر آپریشن کر سکتے ہیں اور ان میں کامیابی کا دعویٰ بھی کر سکتے ہیں لیکن ہم نفرت کے بارے میں کیا کریں گے؟'

ایک اور صارف ہارون رشید لکھتے ہیں'اس کو واقعہ کہنا بند کرو۔ یہ ایک اشتعال انگیزی پر مشتمل اندوہناک قدم ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

نگہت داد نے ٹویٹ کیا کہ 'مجھے بہت افسوس ہوا ہے۔ ہم کیا جانور بن گئے ہیں۔ ان کو ہجوم مت کہو وہ یونیورسٹی کے طلبہ تھے جو سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی تھے۔'

ایک صارف عمران غزالی نے لکھا ہے کہ ’مردان خاموش ہے اور پریشان ہے۔ پاکستان کے لوگوں کچھ رحم کرو؟ شرم کرو؟ انسانیت دکھاؤ؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں