’میری بیٹی انتہا پسند نہیں، اسے اغوا کیا گیا‘ نورین لغاری کے والد

Image caption نورین کے والد کو کسی بھی سرکاری ذریعے سے نورین لغاری کی برآمدگی کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

جامشورو کی لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ نورین 10 فروری کی صبح گھر سے یونیورسٹی کا کہہ کر نکلی تھیں لیکن واپس نہیں لوٹیں۔ والدین پریشانی کا شکار ہوئے، در در اپنی بیٹی کو ڈھونڈنے نکلے، اور جب کہیں سراغ نہ ملا تو 25 فروری کو حیدرآباد کے ایک تھانے حسین آباد میں بیٹی کے اغوا کی رپورٹ درج کرائی۔

رپورٹ درج کرانے کے بعد پولس کی تحقیقات کی صورت میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ لاہور کی بس میں سوار ہوئی تھیں۔ پھر سوشل میڈیا پر ان کے حوالے سے یہ بیان نشر ہوتا ہے کہ وہ ’خلافت‘ کی سرزمین پر پہنچ گئی ہیں۔

ان کے والد پروفیسر عبدالجبار لغاری نے اس بیان کو یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ یہ تحقیقات کا رخ موڑنے کی کوشش ہے۔ نورین کے والد سندھ یونیورسٹی میں شعبہ کیمسٹری میں استاد ہیں۔

سنیچر کے روز ذرائع ابلاغ پر جب یہ خبر نشر ہوئی کہ لاہور میں دہشت گردوں کے ساتھ ایک مقابلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا ہے، اور ان کے دو ساتھی حراست میں لیے گئے ہیں جن میں ایک خاتون شامل ہے تو ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ حراست میں لی جانے والی خاتون نورین لغاری ہیں۔

ان کے والد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علم میں نہیں ہے کہ کیا ہوا ہے؟

نورین کے بارے میں کئے گئے براہ راست سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ابھی تک ان کے بارے میں لا علم ہیں۔

نورین کے والد کو کسی بھی سرکاری ذریعے سے اتوار کی دوپہر تک نورین لغاری کی برآمدگی کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا ہے۔

حیدرآباد میں جہاں ان کے اغوا کی رپورٹ درج ہے، پولیس کو بھی علم نہیں کہ نورین لاہور میں بازیاب ہوئی ہیں اور حراست میں ہیں۔

حیدرآباد کے ایس ایس پی عرفان بلوچ نے ہفتے کی رات فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں علم نہیں کہ حراست میں لی جانے والے خاتون نورین ہیں۔

نوریں کی بازیابی میں تاخیر کی وجہ سے ان کے والد نے 26 مارچ کو حیدرآباد پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ جب ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا نورین انتہا پسندوں کے ساتھ رابطے میں تھیں یا ان سے مرعوب تھیں تو پروفیسر لغاری نے جواب میں کہا تھا کہ ایسا ہرگز نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی بیٹی کے بارے میں انھیں علم ہے کہ اس کے کسی کے ساتھ روابط نہیں تھے۔

نورین لغاری کے والد نے سوال کرنے والے صحافی سے کہا `آپ کی داڑھی ہے اور میری داڑھی نہیں ہے، مجھے تو آپ پر بھی (انتہا پسندی کا) شک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نماز پڑھنے کی وجہ سے کوئی انتہا پسند نہیں ہوجاتا۔ میں بھی نماز پڑھتا ہوں تو کیا میں انتہا پسند ہوں یا مجھ پر لیبل لگ گیا۔‘

نورین کے مبینہ اغوا کی رپورٹ درج ہونے کے بعد پروفیسر لغاری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کی بیٹی کو اغوا کیا گیا ہے۔

نورین کے بھائی افضل لغاری کا اتوار کی صبح کہنا تھا کہ ’یہ موقف پولیس کا تھا اور ہے، ہم اس کی تردید کرتے آئے ہیں۔ ہم تو ابھی تک اس کیس کو اغوا کا سمجھتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اگر وہ لڑکی نورین لغاری ہے تو ممکن ہے کسی دہشت گرد تنظیم نے اغوا کیا ہوگا۔ ہم سے تو رابطہ نہیں کیا گیا ہے اب تک۔ ہم آئی ایس پی آر اور چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری بہن کو بازیاب کیا جائے۔ ایک اور بات پھیلائی جارہی ہے کہ وہ ا نتہا پسند خیالات رکھتی تھی لیکن کالج میں تو اس کی بہترین دوست ایک ہندو طالبہ ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں