’پولیو کے قطرے نہ پلانے والے والدین اب بھی موجود ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری ذرائع کے مطابق جن اضلاع کے ماحول میں پولیو کا وائرس موجود ہے ان میں کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبد اللہ شامل ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین اب بھی موجود ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ان کی تعداد میں بڑی حد تک کمی آئی ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بلوچستان کے تین اضلاع کے ماحول میں اب بھی پولیو کا وائرس موجود ہے لیکن رواں سال اب تک پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق جن اضلاع کے ماحول میں پولیو کا وائرس موجود ہے ان میں کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبد اللہ شامل ہیں۔

ان اضلاع کے ماحول سے پولیو کے وائرس کا تاحال خاتمہ نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف ان اضلاع کو ’ہائی رسک‘ قرار دیا گیا ہے بلکہ ان اضلاع میں پولیو کے وائرس کی موجودگی کے باعث بلوچستان میں پولیو کے خلاف زیادہ سے زیادہ مہم چلائی جا رہی ہے۔

تاہم بڑے پیمانے پر مہمات کے باوجود بلوچستان کے بعض علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین موجود ہیں۔

کوئٹہ میں محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق اپنے بچوں کو قطرے نہ پلانے والے والدین کی تعداد 15سو سے16سو کے لگ بھگ ہے تاہم بعض دیگر ذرائع کا دعویٰ ہے ان کی تعداد ڈھائی ہزار کے قریب ہے۔

کوئٹہ میں پولیو سے متعلق ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی میڈیا آفیسر معصومہ قربان کا میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایسے افراد کی تعداد میں بڑی حد تک کمی آئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے ساتھ علما موجود ہیں اور وہ والدین کو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے حوالے سے قائل کررہے ہیں۔

پولیو کے وائرس کی موجودگی کے خطرے کے پیش نظر بلوچستان کے 13 اضلاع میں پولیو کے خلاف 17اپریل سے ایک اور مہم چلائی جارہی ہے۔

تین دن تک جاری رہنے والی اس مہم میں وہ اضلاع بھی شامل ہیں جن کا شمار ہائی رسک اضلاع میں ہوتا ہے۔

دوسری جانب پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ایک پریس کانفرنس میں ایک مرتبہ پھر اس پولیو مہم کے بائیکاٹ کی بات کو دھرایا۔

اس حوالے سے ایسوسی ایشن کے نائب صدر نیاز بگٹی کا کہنا تھا کہ وہ چار سال سے حکومت کو اپنے جائز مطالبات پیش کر رہے ہیں لیکن ان کو تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس کے پیش نظر نہ صرف پیرا میڈیکل سٹاف ایسوی ایشن کے اراکین مجبوراً 17مارچ سے کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کریں گے بلکہ پولیو مہم کا بائیکاٹ بھی کریں گے۔

بلوچستان میں پیرا میڈیکس کی عملاً اس وقت دو تنظیمیں ہیں۔ ان میں سے پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن نے پولیو مہم کا بائیکاٹ کیا ہے جبکہ اس کے برعکس پیرا میڈیکل سٹاف فیڈریشن نے مہم میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں