چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی حکومتی رویے سے تنگ، احتجاجاً پروٹوکول واپس

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے حکومتی رویے سے تنگ آ کر احتجاجاً اپنا پروٹوکول واپس کردیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومتی وزراء اور ذمہ داران افراد سینیٹ کو نہ تو اہمیت دیتے ہیں اور نہ ہی وہ ارکان کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے ایوان میں آتے ہیں۔

میاں رضا ربانی نے15 اپریل سے شروع ہونے والے ایران کے سرکاری دورے کو بھی ملتوی کردیا ہے۔

’مشعل کی موت اور دعائے مغفرت‘

’راحیل شریف نے اب تک ’این او سی‘ نہیں مانگا‘

’طاقت کے سامنے آئین کی کوئی حیثیت نہیں‘

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعے کو اجلاس میں چیئرمین سینیٹ نے سندھ کے ساتھ گیس کے معاملے پر تیل اور گیس کے وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی کو بھی ایوان میں طلب کیا تھا لیکن وہ ایوان میں نہ آئے جس پر اُنھوں نے برہمی کا اظہار کیا۔

وفاقی وزراء کی ایوان میں عدم موجودگی کی بنا پر میاں رضا ربانی نے سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا جس کے بعد وہ سینیٹ سیکرٹریٹ گئے اور وہاں پر اُنھوں نے عملے کے ارکان کو مطلع کیا کہ وہ سرکاری امور نمٹانے سے متعلق کوئی بھی فائل لیکر اُن کے پاس نہ آئے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اُن کے رویے سے نالاں ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ 'اگر حکومت کہے تو وہ مستعفی ہونے کو تیار ہیں'۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ حکومت صوبوں کے درمیان موجود اختلافات کو حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی جس کی وجہ سے صوبوں اور مرکز میں خلیج بڑھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ میاں رضا ربانی کا تعلق حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ سرکاری پروٹوکول کے لحاظ سے صدر اور وزیر اعظم کے بعد چیئرمین سینیٹ تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ کا احتجاجًا کام چھوڑنے پر حزب مخالف کی دیگر جماعتوں کے ارکان سینیٹ کا سخت ردعمل بھی سامنے آیا ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ اگر میاں رضا ربانی اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے تو وہ بھی احتجاجاً استعفے دے دیں گے ۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار چیئرمین سینیٹ کو منانے کے لیے اُن کی رہائش گاہ پر بھی گئے تاہم ابھی تک میاں رضا ربانی نے سرکاری پروٹوکول واپس نہیں لیا۔

قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دوسری جانب قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے شدت پسندی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے 33 رکنی پارلیمانی کمیٹی کا اعلان کیا ہے۔

اس کمیٹی میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان شامل ہیں۔ اس کمیٹی میں شامل سب سے زیادہ ارکان کا تعلق حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں سے ہے۔

اس کمیٹی میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو بھی شامل کیا گیا ہے تاہم عمران خان نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ جب تک پاناما کیس کا فیصلہ نہیں آجاتا اس وقت تک وہ پارلیمنٹ میں نہیں جائیں گے۔

اس پارلیمانی کمیٹی کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کمیٹی دو سال کی مدت پوری ہونے پر فوجی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو سویلین عدالتوں میں بھیجنے کا بھی جائزہ لے گی۔

قومی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اسمبلی کا سپیکر اس پارلیمانی کمیٹی میں ردو بدل کرنے کا بھی اختیار رکھتا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی میں ان ارکان کو بھی شامل کیا گیا ہے جنہوں نے پارلیمنٹ میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی نہ صرف مخالفت کی تھی بلکہ اس ضمن میں پارلیمنٹ میں ہونے والی رائے شماری میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔

ان میں پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور اُن کی جماعت کے دیگر ارکان کے علاوہ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی شامل ہیں۔

فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں توسیع کے معاملے پر حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں سکیورٹی کے معاملات اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی شرط رکھی تھی جسے حکومت نے منظور کر لیا تھا۔

اسی بارے میں