’مشعل کی موت اور دعائے مغفرت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قومی اسمبلی کی حالیہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ توہین مذہب کے الزام میں قتل کیے جانے والے کسی شخص کے لیے دعائے مغفرت کروائی گئی ہو

پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی میں جمعے کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں عبدالوالی خان یونیورسٹی میں مبینہ طور پر توہین مذہب کرنے کے الزام میں یونیورسٹی کے طالب علم مشعل خان کو قتل کیے جانے کے واقعے کی مذمت کی گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں مقتول کے ایصال ثواب کے لیے دعائے مغفرت بھی کروائی گئی۔

توہین مذہب کے الزام پر طالبعلم کے قتل کا مقدمہ درج، آٹھ ملزمان گرفتار

مردان: توہینِ مذہب کے الزام میں یونیورسٹی میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں طالب علم ہلاک

قومی اسمبلی کی حالیہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ توہین مذہب کے الزام میں قتل کیے جانے والے کسی شخص کے لیے دعائے مغفرت کروائی گئی ہو۔

اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے گذشتہ دورِ حکومت میں صوبہ پنجاب میں پارٹی کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کی سکیورٹی پر تعینات ممتاز قادری نے قتل کیا تھا تو اس واقعے کے خلاف پارلیمان میں مقتول کے لیے دعائے مغفرت نہیں کروائی گئی تھی۔

ممتاز قادری نے سابق گورنر پنجاب کو اس لیے قتل کیا تھا کہ انھوں نے توہین مذہب سے متعلق ملکی قوانین کی مخالفت کی تھی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی بڑے جذباتی دکھائی دیے۔ وہ مردان یونیورسٹی میں ہونے والے واقعے پر بات کرنا چاہتے تھے تاہم قومی اسمبلی کے سپیکر نے یہ کہہ کر انھیں اپنی نشستوں پر بیٹھنے کو کہہ دیا کہ وقفۂ سوالات کے بعد نقطۂ اعتراض پر بات کر لیں گے۔

پریس گیلری میں بھی یہ چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ آج معلوم ہو جائے گا کہ کونسی جماعت اس واقعے کے خلاف آواز اٹھاتی ہے اور کونسی اس پر خاموشی اختیار کرتی ہے۔

وقفۂ سوالات ختم ہونے کی دیر تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نوید قمر نے نقطۂ اعتراض پر مردان یونیورسٹی میں ہونے والے واقعے کی بجائے پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے تین قریبی ساتھیوں کا معاملہ اُٹھا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشتعل طلبا کے ہاتھوں توہین مذہب اور توہینِ رسالت کے الزام پر قتل ہونے والے طالب علم مشعل خان کی ہلاکت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

حکومت کی جانب سے جواب نہ ملنے پر پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔

حکومت نے ایوان کی کارروائی چلانے کی کوشش کی تو پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی رمیش لال نے کورم کی نشاندہی کردی جس کے بعد ارکان اسمبلی کی گنتی کی گئی تو ایوان میں ان کی مطلوبہ تعداد موجود نہیں تھی جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس ملتوی کر دیا۔

سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس ملتوی کیا تو اس وقت ایوان میں موجود حکومتی ارکان کے چہروں پر طمانیت عیاں تھی جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ شکر ہے جان چھوٹی اور اُنھیں اس حساس معاملے پر اظہار خیال کا موقع نہیں ملا۔

دوسری جانب حکومت کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ جب سے پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے سے احتجاج ختم کیا ہے اس کے بعد حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان اور بلخصوص وفاقی وزرا قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس میں شریک نہیں ہوتے جس کی وجہ سے بارہا ان دونوں ایوانوں کے اجلاس ملتوی کیے جا چکے ہیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ختم ہوا تو لابی میں ارکان اسمبلی آپس میں گفتگو کرتے ہوئے نظر آئے کہ سپیکر نے وقفۂ سوالات سے پہلے مردان یونیورسٹی پر بات کرنے کی اجازت نہ دیکر اچھی روایت قائم نہیں کی۔

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کا اجلاس بھی جمعے کے روز تھا لیکن اس اجلاس میں مشعل کے قتل کا واقعے کا ذکر تک بھی نہیں کیا گیا جب کہ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی بھی ارکان کے سوالوں کا جواب دینے کے لیے وفاقی وزرا کی عدم موجودگی پر کافی برہم دکھائی دیتے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں