’مقامی مسجد کے امام نے مشال خان کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تھا‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوابی میں مشعل خان کی نماز جنازہ ادا کی جا رہی ہے

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں نے توہین رسالت کے الزام میں تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے طالبعلم مشال خان کے جنازے میں مقامی مسجد کے امام نے ان کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جس شخص نے بعد میں نماز پڑھائی اُس سے بھی بعد میں لوگوں نے نماز پڑھانے پر بحث مباحثہ کیا۔

توہین مذہب کے الزام پر طالبعلم کا قتل، آٹھ ملزمان گرفتار

اگر اگر اگر

مشال کو اب دفنایا جا چکا ہے لیکن یونیورسٹی میں اس کے کمرے میں ابھی بھی کمیونزم کے بانی کارل مارکس اور کیوبن انقلاب کے رہنما چے گیؤویرا کی تصاویر لگی ہوئی ہیں اور ان دیوار پر ان کے قول درج ہیں جن میں سے ایک پر لکھا ہوا ہے 'ہمیشہ متجسس ، جنونی اور پاگل رہو۔'

یاد رہے کہ اپنی موت سے ایک دن قبل یونیورسٹی میں مشال خان کی ساتھی طالب علموں کے ساتھ گفتگو میں مذہبی بحث چھڑ گئی جس کے بعد مشتعل طلبا نے اس کے ہوسٹل کے کمرے تک اس کے پیچھا کیا اور الزام لگایا کہ اس نے توہین آمیز گفتگو کی ہے۔

عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق اس ہجوم نے مشال خان کو ہوسٹل میں اس کے کمرے سے کھینچ کر باہر نکالا اور تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔

مشال خان کو جاننے والوں نے کہا کہ وہ ایک متجسس طبیعت رکھنے والا طالبعلم تھا جس نے ہمیشہ اسلام سے اپنی محبت کا اظہار کیا لیکن ساتھ ساتھ سوالات بھی اٹھاتا تھا۔

روئٹرز سے بات کرتے ہوئے مشال خان کے ایک استاد نے بتایا کہ 'وہ ہمیشہ کھل کے بات کرتا تھا لیکن اس کو احساس نہیں تھا کہ وہ کیسے ماحول میں رہ رہا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

مشال خان کے ہوسٹل میں کام کرنے والے عزیز الرحمان جس نے مشال کی ساتھی طلبہ کے ساتھ بحث دیکھی تھی، کہا کہ وہ ہمیشہ پیچیدہ اور مختلف نوع کے موضوعات پر بات کرتا تھا۔

پولیس نے کہا ہے کہ مشال خان کے قتل کے مقدمے میں انھوں نے اب تک 20 افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور اب تک انھیں ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جس سے ظاہر ہو کہ مشال نے توہین مذہب کی ہو۔

عزیز الرحمان نے رؤٹرز کو بتایا کہ جب پولیس پہنچی تو مشال خان اس وقت تک زندہ تھا جب تک وہ ہوسٹل پہنچی اس وقت تک مشال خان کی موت واقع ہو گئی۔

'وہ آرام سے اس کی جان بچا سکتے تھے لیکن وہ ہجوم سے دور رہے۔ میں نے ایک پولیس والے کو یہ کہتے سنا کہ اچھا ہوا اس دہریے کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے۔'

مردان پولیس کے افسر عالم شنواری نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ ان کے اہلکاروں نے مشال خان کو بچانے کے کوششیں نہیں کیں۔

'جب ہم یونیورسٹی داخل ہوئے تو اس وقت تک مشعل خان کو قتل کیا جا چکا تھا اور ہجوم اس کی نعش کو جلانے کی کوششیں کر رہا تھا۔

پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں قتل کیے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ملک میں توہین مذہب کے بہت سخت قوانین ہیں جن میں سے کچھ کی سزا موت ہے۔

اسلام آباد کے سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی سٹڈیز کے مطابق 1990 کے بعد سے اب تک ملک میں کم از کم 65 افراد کو توہین مذہب کے الزامات کے نتیجے میں ہلاک کیا جا چکا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ توہین مذہب کے الزامات میں جیلوں میں بند ہیں اور کئی لوگوں کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

اس سال مارچ میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے حکم دیا تھا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سے توہین آمیز مواد کو مکمل طور پر ہٹایا جائے اور جس فرد نے ایسے مواد کو شائع کیا ان کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے۔

مشعل کے آْبائی شہر صوابی میں اس کے والد اقبال شاعر نے کہا کہ ان کے بیٹے پر لگائے جانے والے توہین مذہب کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ 'پہلے انھوں نے میرے بچے کو مارا اور اب ہمارے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔'

اقبال شاعر نے کہا کہ ہمیشہ سے شاعری اور ادب کے دلدادہ رہے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی اس کی ترغیب دی ہے۔

میری بیوی نے مجھ سے آج صبح کہا کہ 'اس نے اپنے پوری زندگی ہمارے بیٹے کو پالنے میں صرف کر دی لیکن جنھوں نے اس کو قتل کیا، انھوں نے اس تمام محنت کو ضائع کر دیا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں