نورین لغاری چھ روز قبل ہی شام سے واپس آئی تھیں: محکمہ انسداد دہشت گردی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے شہر لاہور میں محکمہ انسداد دہشت گردی نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعہ کو لاہور کے علاقے میں کارروائی کے دوران حراست میں لی گئی خاتون حیدر آباد سے لاپتہ ہونے والی لڑکی نورین لغاری ہے۔

محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نورین لغاری دولت اسلامیہ میں شامل ہو کر دو ماہ شام میں گزار چکی ہیں۔

بیان کے مطابق 'نورین شام میں دو ماہ گزارنے کے بعد چھ روز قبل پاکستان واپس آئیں۔'

٭ ’میری بیٹی انتہا پسند نہیں، اسے اغوا کیا گیا‘

بیان کے مطابق جمعہ کو حساس اداروں نے لاہور کے علاقے پنجاب ہاؤسنگ سوسائٹی میں کارروائی کی۔ 'اس کارروائی کے دوران ایک شدت پسند ہلاک ہوا جبکہ حیدر آباد سے لاپتہ طالبہ نورین لغاری کو حراست میں لیا گیا۔'

محکمہ انسداد دہشت گردی کے مطابق 'گرفتار ملزمہ نورین لغاری لاہور میں مسیحی برادری کی مذہبی تہوار ایسٹر پر دہشتگردی کی وارادت کرنا چاہتی تھی۔'

یاد رہے کہ نورین لغاری لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل سائنس جامشورو سے رواں سال 10 فروری کو لاپتہ ہوئی تھیں۔

نورین لغاری سندھ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایم اے قاضی انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالجبار لغاری کی بیٹی ہیں۔

تاہم بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے نورین کے والد پروفیسر ڈاکٹر عبدالجبار لغاری اور حیدر آباد پولیس نے کہا کہ جو بھی معلومات ملی ہیں میڈیا سے ملی ہیں اور کسی ادارے نے ان سے اس بابت رابطہ نہیں کیا۔

نورین کے بھائی افضل لغاری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ 'میرے والد کے مطابق ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ لاہور سے حراست میں لی جانے والی لڑکی نورین ہو سکتی ہے۔ تاہم باضابطہ طور پر ہم کو کسی نے نہیں بتایا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایس ایس پی حیدر آباد عرفان بلوچ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ نورین لغاری نے شدت پسند تنظیم کے نظریے سے مرغوب ہو کر شدت پسند تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں افضل کا کہنا تھا 'میرے والد اس وقت شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں اور ان کا فون بند ہے۔'

واضح رہے کہ نورین لغاری کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے مارچ میں ایس ایس پی حیدر آباد عرفان بلوچ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ نورین لغاری نے شدت پسند تنظیم کے نظریے سے مرغوب ہو کر شدت پسند تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

ایس ایس پی حیدر آباد نے میڈیا کو مزید بتایا تھا کہ نورین لغاری نے اپنے انتہا پسند مذہبی رجحان کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔

'پولیس نے ویڈیو بھی حاصل کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نورین اکیلی حیدر آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہوئیں اور اس کے بعد انھوں نے اپنے خاندان سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ خلافت کی سرزمین پر پہنچ گئی ہیں۔'

یاد رہے کہ پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ پنجاب ہاؤسنگ سوسائٹی میں آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں سکیورٹی فورسز کے دو افسران سمیت چار اہلکار زخمی ہوئے تھے جبکہ خودکش جیکٹس اور بڑی تعداد میں گولہ بارود برآمد کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں