پاکستان میں مردم شماری: آدھی آبادی گنتی میں آ گئی

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں 1998 کے بعد پہلی بار مردم شماری اس سال مارچ میں شروع ہوئی

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مردم شماری کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا گیا جس میں ملک کی آدھی آبادی کی گنتی مکمل کر لی گئی ہے۔

پہلے مرحلے میں بشمول تمام صوبائی دارالحکومت، ملک کے 63 اضلاع میں کام مکمل ہوا ہے۔ مردم شماری کے چیف کمشنر آ صف باجوہ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مردم شماری کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مرحلوں میں تقسیم کیا گیا۔

مردم شماری میں فوج کا کردار

چھٹی مردم شماری: پہلا مرحلہ 15 مارچ سے 15 اپریل تک

مردم شماری کا دوسرا مرحلہ 25 اپریل کو شروع اور 25 مئی کو ختم ہو گا۔ دوسرے مرحلے کے بلاک ون میں 25 سے 27 اپریل تک خانہ شماری جبکہ 28 اپریل سے آٹھ مئی تک افراد کی گنتی ہوگی ۔ اسی طرح بلاک ٹو میں 11 سے 13 مئی تک خانہ شماری اور 14 مئی سے 24 مئی تک افراد کی گنتی ہوگی ۔

مردم شماری کے چیف کمشنر آ صف باجوہ نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں زیادہ تر دیہی آبادی شامل ہوگی جبکہ بڑے شہروں میں ملتان، سرگودھا،گوجرانوالہ، راولپنڈی اور اسلام آباد میں کام ہوگا۔مردم شماری کی شفافیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ چھ بین الاقوامی مبصر ٹیموں نے آزادانہ کام کیا ہے اور اس وقت اپنی رپورٹ مرتب کر رہی ہیں۔

مردم شماری کے پہلے مرحلے کے دوران لاہور میں ایک خود کش حملے میں مردم شماری ٹیم کے سات اراکین ہلاک ہوئے جبکہ بلوچستان میں شمار کنندہ اغوا ہوئے جن کے بارے میں آصف باجوہ نے بتایا کہ دو اہلکار اب تک بازیاب نہیں ہوئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جات کو مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں رکھا گیا ہے اس حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ ایسا فاٹا اراکین پارلیمنٹ کے کہنے پر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ستر سے پچھتر فیصد پناہ گزینوں کی واپسی ہو چکی ہے جبکہ کیمپوں میں رہنے والوں کو مردم شماری میں ضرور شامل کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ مردم شماری کے لئے کل 18 ارب روپے کا بجٹ ہے ۔ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد دو ماہ میں عبوری نتیجہ عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں