مشال خان کے قتل کا مقدمہ فوجی عدالت منتقل کیا جائے: والد

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں عبد الولی خان یونیورسٹی میں تشدد کر کے قتل کیے جانے والے طالب علم مشال خان کے والد اقبال خان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں۔

اتوار کو صوابی کے علاقے زیدہ میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اقبال خان نے کہا کہ ملک میں پہلے بھی کئی مواقعوں پر اہم کیسسز کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیے جا چکے ہیں لیکن ان میں کسی ایک کمیشن کا آج تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

واضح رہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں دو روز قبل مشتعل ہجوم نے شعبہ صحافت کے طالبعلم مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کر دیا تھا۔ تشدد کے اس واقعے میں دو طالبعلم زخمی ہوئے تھے جنھیں ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔

’مقامی امام نے مشال کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کیا تھا‘

اگر اگر اگر

مذمت ضرور کیجیے مگر احتیاط سے!

اقبال خان کا کہنا تھا کہ ’جوڈیشل کمیشن اور از خود نوٹس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو اس معاملے کو فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے بیٹے کا قتل دراصل میں دہشت گردی ہے اور جب ملک میں دہشت گردی کی عدالتیں موجود ہیں تو وہاں کیوں اس کیس کو منتقل نہیں کیا جارہا جس کا سارا فائدہ فوج اور حکومت کو ہی ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کا بیٹا مشال خان تو اب اس دنیا میں نہیں رہا لیکن یہ مسئلہ اب صرف ان کا ہی نہیں رہا بلکہ اس پوری دھرتی کے نوجوانوں اور بچوں کا معاملہ بن گیا ہے اور ایسے میں اگر حکومت نے انصاف فراہم نہیں کیا تو اس کا براہ راست فائدہ غیر ریاستی عناصر کو ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں اقبال خان نے کہا کہ ابھی تک ان کو پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس کیس میں تفتیش اور اس میں پیش رفت سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

’اگر حکومت حقیقت میں چاہتی ہے کہ اس کیس کو حل کرائے اور سچ سامنے آئے تو اس کے لیے تمام تر ثبوت پہلے سے موجود ہیں کیونکہ سارے واقعے کی ویڈیو دستیاب ہے صرف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔'

ان سے جب سوال کیا گیا کہ بعض تنظیموں کی طرف سے ان کے بیٹے کے قتل سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے تو اس پر اقبال خان نے کہا کہ اس طرح تو ہر دور میں ہوتا رہا ہے لیکن اگر یہ فائدہ اس طرح ہو کہ اس سے ملکی نظام میں کوئی بہتری آئے تو وہ کہیں گے کہ ان کے بیٹے کا خون رائیگاں نہیں گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اقبال خان نے اپنی اہلیہ کے غم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ان کا حوصلہ برقرار ہے اور وہ کہتی ہیں کہ بحثیت ایک سید ان میں معاف کرنے کا حوصلہ بھی موجود ہے لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے بیٹے کو جن افراد نے قتل کیا ہے اگر ان لوگوں کو سزا نہیں ملی تو کل کو دیگر ماؤں کے بیٹوں کے ساتھ بھی اس طرح ہو سکتا ہے۔‘

دریں اثناء صوابی کے گاؤں زیدہ میں واقع مقتول مشال خان کے حجرے پر اتوار کو تیسرے روز بھی تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔

پشاور اور ملک کے مختلف شہروں سے آنے والے انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی طرف سے زیدہ بازار میں ایک جلوس بھی نکالا گیا جس میں حکومت اور عبدالولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی۔

سول سوسائٹی کی تنظیم پختونخوا اولسی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر سید عالم محسود نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مشال خان کے قاتلوں کے خلاف دائر مقدمات عام عدالتوں کی بجائے دہشت گردی کی عدالتوں میں چلایا جائے تاکہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جاسکے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ مقتول مشال خان اکثر اوقات یونیورسٹی میں ہونے والی ناانصافیوں اور بے قاعدگیوں پر آواز اٹھاتے رہتے تھے جس کی وجہ سے انتظامیہ بھی ان سے تنگ آچکی تھی اور ان سے جان چھڑانا چاہتی تھی۔

اسی بارے میں