’مشال اور عبداللہ پر توہینِ مذہب کے الزامات کے ثبوت نہیں ملے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشال خان کے قتل کے خلاف پاکستان میں مظاہرے ہوئے ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات کے دوران مردان میں مشتعل طلبا کے ہاتھوں قتل ہونے والے طالبعلم مشال خان اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے نازیبا کلمات کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے۔

عبدالولی خان یونیورسٹی میں شعبۂ صحافت کے طالبعلم مشال خان کو 13 اپریل کو مشتعل طلبا اور دیگر افراد نے توہینِ رسالت کا الزام لگانے کے بعد یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔

٭ ’مقامی امام نے مشال کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کیا تھا‘

٭توہین مذہب کے الزام پر طالبعلم کا قتل، آٹھ ملزمان گرفتار

آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے بتایا کہ مشال خان اور ان کے دو ساتھیوں عبداللہ اور زبیر پر یونیورسٹی کے طلبا نے پیغمبرِ اسلام کی شان میں گستاخی کا الزام لگایا تھا اور اس معاملے پر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے تحقیقاتی کمیٹی بنائی تھی۔

آئی جی کا کہنا تھا کہ یہ انکوائری مشال خان کے قتل سے چند گھنٹے قبل شروع کی گئی اور اس معاملے میں مشال خان کو صفائی کا موقع ہی نہیں ملا۔

ان کے مطابق مشال خان اور زبیر نامی طالبعلم اس کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے بلکہ صرف عبداللہ پیش ہوا جس نے کمیٹی کے سامنے خود پر اور اپنے ساتھیوں پر لگے الزامات کی تردید کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ TV GRAB
Image caption آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تفتیش درست سمت میں جا رہی ہے اور منگل تک واقعے کی تمام تفصیلات سپریم کورٹ کو بھیج دی جائیں گی۔

خیال رہے کہ جس دن مشال خان کو قتل کیا گیا اسی روز عبدالولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا تھا جس میں مشال خان، عبد اللہ اور زبیر پر توہین مذہب کا الزام لگاتے ہوئے ان کو یونیورسٹی سے خارج کرنے کی بات کی گئی تھی۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اعلامیہ اس لیے جاری کیا گیا تھا تاکہ ہنگامہ آرائی پر قابو پایا جاسکے اور طلبا کو بتایا جاسکے کہ مذکورہ نامزد طلبا کو پہلے ہی یونیورسٹی سے خارج کیا جا چکا ہے۔

آئی جی صلاح الدین محسود کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشال خان کے قتل کی ایف آئی آر میں جن 20 افراد کو نامزد کیا گیا تھا ان میں سے 16 کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مزید تفتیش میں جن 11 ملزمان کی نشاندہی ہوئی تھی ان میں سے بھی چھ گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

ان کے مطابق گرفتار شدہ افراد میں یونیورسٹی کے عملے کے چھ ارکان بھی شامل ہیں۔

آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تفتیش درست سمت میں جا رہی ہے اور منگل تک واقعے کی تمام تفصیلات سپریم کورٹ کو بھیج دی جائیں گی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی اس قتل کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی ہے۔

صلاح الدین محسود کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے طالبعلم عبداللہ نے پیر کو عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے اور اس واقعے کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق مردان پولیس کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے اس بیان میں عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یونیورسٹی کے چند طلباء نے ان سمیت تین طلبا پر توہین مذہب کا الزام لگاتے ہوئے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ مشال خان کے خلاف بیان دے لیکن انہوں نے اس سے انکار کردیا تھا۔

بیان میں عبداللہ نے اپنے ایک کلاس فیلو اور کلاس کے 'سی آر' کو واقعے کا اصل ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ان کے بقول ان طلبا نے ان کے علاوہ مشال اور زبیر نامی طالبعلم پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تینوں اصل راستے سے ہٹ گئے ہیں۔ تاہم عبداللہ کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے تمام الزامات کی نہ صرف سختی سے تردید کی گئی بلکہ انھوں نے ان افراد کو کلمہ بمعہ ترجمہ پڑھ کر سنایا۔

عبداللہ کے مطابق بعد میں طلباء کی جانب سے ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ مشال خان کے خلاف بیان دیں کہ اس نے توہین مذہب کی ہے لیکن انہوں نے اس سے انکار کر دیا جس پر ان کو باتھ روم میں بند کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں