’قانونی طور پر بچے کی تعریف میں تضاد ہے‘

Image caption سعدیہ حُسین کے خیال میں بچے سے محنت لینے اور اسے تعلیم دینے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 11 اور 25 اے میں تصادم پایا جاتا ہے

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ عالمی قوانین کے باوجود پاکستان کی آئین ساز اسمبلیاں قانونی طور پر بچہ قرار پانے والوں عمر کا تعین کرنے میں ہی ناکام رہی ہیں جس کی وجہ انھیں چائلڈ لیبر کے خاتمے کی کوششوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستان میں چائلڈ لیبر کا 'شیطانی چکر'

’چائلڈ لیبر تو اب ماضی کا قصہ بن چکی‘

ایسے ہی ایک غیرسرکاری ادارے سپارک کی سربراہ سعدیہ حُسین کہتی ہیں کہ ’بدقسمتی سے ہمارے ملک کے مختلف قوانین میں بچوں سے لیبر، ان کی تعلیم، فلاح اور تحفظ کے قوانین میں کافی حد تک تضاد پایاجاتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ایک صوبے کا قانون دوسرے صوبے کے قانون سے مختلف ہے۔‘

عالمی قوانین کہتے ہیں کہ پیدائش سے لے کر 18 برس تک کا انسان ’بچہ‘ کہلاتا ہے لیکن پاکستان کے آئین میں بچے کی عمر سے متعلق کوئی واضح تعریف موجود نہیں ہے۔ مختلف صورتحال میں آئین کے مختلف آرٹیکلز کا سہارا لیا جاتا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 11 میں لکھا ہے کہ 14 سال سے کم عمر بچے کو کسی پُرخطر پیشے میں ملازمت پر نہیں رکھا جائے گا۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد جب محکمہ محنت کا دائرہ اختیار صوبوں کے پاس گیا تو ملک کے تین صوبوں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے اسی آرٹیکل کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کے کام کرنے کی عمر14 سال متعین کر دی جبکہ صوبہ پنجاب میں اس عمر کی حد 15 سال رکھی گئی ہے۔

سعدیہ حسین نے کہا کہ ’یہ بات ناقابِل فہم ہے کہ ہمارے صوبے ہی یہ طے نہیں کر پا رہے کہ کس عمر کے انسان کو آپ بچہ کہتے ہیں۔ یہ بہت بڑا تضاد ہے۔ سول سوسائٹی اس پہ بہت کام کررہی ہے کہ کم از کم ہمیں ایک عمر تو معلوم ہوجائے۔ اس میں کوئی اب مشکل کام نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے تو ایک عالمی معیار طے ہے کہ بچہ کیا ہوتا ہے۔‘

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے محنت (آئی ایل او) ترقی پذیر ممالک کو اس بات اجازت دیتا ہے کہ 14 سال سے اوپر کے بچوں سے آپ رسمی شعبوں میں محنت کراسکتے ہیں۔

عالمی قوانین میں اس گنجائش پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے لیے کافی سخت شرائط رکھی گئی ہیں کہ ان کی تعلیم نظر انداز نہ ہو لیکن جب کوئی چیک نہ ہو تو تعلیم نظراندازہو جاتی ہے۔ اس لیے حکومت پہلے 16 سال تک بچے کی مفت اور لازمی تعلیم کو یقینی بنالے۔ لیبرکی چیزیں بعد میں آتی ہیں۔‘

پاکستان کے آئینِ کےآرٹیکل 25 اے میں لکھا ہے کہ 5 سے 16 سال تک کے ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن لاکھوں پاکستانی بچے محنت مزدوری کے سبب اپنےاس بنیادی حق سےمحروم رہتے ہیں۔

سعدیہ حُسین کے خیال میں بچے سے محنت لینے اور اسے تعلیم دینے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 11 اور 25 اے میں تصادم پایا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جب 14 سال کا بچہ کسی فیکٹری یا صنعت میں یا کسی بھی رسمی شعبے میں کام کرے گا تو 16 سال تک اپنی تعلیم کیسے مکمل کرے گا۔ فیکڑیاں بچوں سے کام کے لیے اپنے اوقاتِ کار تو تبدیل نہیں کرسکتیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں