’نورین لغاری کبھی شام گئی ہی نہیں تھیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
نورین کے مطابق انھیں بطور خودکش حملہ آور استعمال کیا جانا تھا

پاکستانی فوج نے رواں برس فروری میں صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد سے لاپتہ ہونے والی طالبہ نورین لغاری کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے ان کا اعترافی بیان جاری کیا ہے۔

یہ بیان پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پیر کی شام ایک پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کو دکھایا جس میں بظاہر نورین لغادی نے شدت پسند تنظیم کا رکن ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

لاہور سے گرفتار کی گئی خاتون نورین لغاری ہے؟

’میری بیٹی انتہا پسند نہیں، اسے اغوا کیا گیا‘

نورین لغاری کو جمعے کو پنجاب کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کی جانب سے لاہور میں کی جانے والی ایک کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس کارروائی کے بعد سی ٹی ڈی پنجاب کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ نورین شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شامل ہو کر دو ماہ شام میں گزار چکی ہیں اور چھ روز قبل ہی پاکستان واپس آئی تھیں۔

تاہم پیر کو پریس کانفرنس میں میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ نورین لغاری کبھی بھی شام نہیں پہنچیں اور وہ حیدرآباد سے لاہور آئی تھیں۔

صحافیوں کو دکھائے گئے اعترافی بیان میں نورین لغاری کا کہنا تھا کہ ’مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا۔ میں اپنی مرضی سے لاہور آئی تھی۔‘

نورین لغاری کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں بطور ایک خودکش حملہ آور استعمال کیا جانا تھا اور ان کا ہدف کسی چرچ پر حملہ کرنا تھا۔

’یکم اپریل کو تنظیم نے میرے لیے سامان کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ اس سامان میں مجھے دو جیکٹس، چار دستی بم اور کچھ گولیاں تھیں۔ مجھے ایسٹر پر کسی چرچ پر حملہ کرنا تھا لیکن سکیورٹی فورسز نے چودہ اپریل کو کارروائی میں مجھے گرفتار کر لیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Social Media
Image caption نورین لغاری کو جمعے کو پنجاب کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کی جانب سے لاہور میں کی جانے والی ایک کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا اعترافی بیان کی ویڈیو دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ ’یہ نوجوان ہماری ایک طاقت ہیں اور جب یہ نوجوان جب دہشت گردوں کا نشانہ بن جائیں تو یہ کتنی قابل تشویش بات ہے۔‘

انھوں نے والدین سے اپنے بچوں پر نظر رکھنے کی درخواست بھی کی۔

یاد رہے کہ نورین لغاری لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل سائنس جامشورو سے رواں سال 10 فروری کو لاپتہ ہوئی تھیں۔ بعد میں سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں نورین لغاری کا کہنا تھا کہ وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر کے شام روانہ ہونے والی ہیں۔

وہ سندھ یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالجبار لغاری کی بیٹی ہیں جنھوں نے ان کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو بھی معلومات ملی ہیں میڈیا سے ملی ہیں اور کسی ادارے نے ان سے اس بابت رابطہ نہیں کیا۔

نورین کے بھائی افضل لغاری نے بھی بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ 'میرے والد کے مطابق ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ لاہور سے حراست میں لی جانے والی لڑکی نورین ہو سکتی ہے۔ تاہم باضابطہ طور پر ہم کو کسی نے نہیں بتایا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں