ترجمان تو ہمیشہ پکڑے جاتے ہیں!

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption احسان اللہ احسان کو اکثر فیس بک پر صحافیوں کو فرینڈ کی درخواست بھیجنے کے علاوہ اپنی تصاویر شیر کرنے کا بہت شوق تھا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پیر کی شام ایک پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کالعدم جماعت تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان پاکستانی فوج کی حراست میں ہیں۔

ادھر شدت پسند ذرائع کے مطابق احسان اللہ نے اپنی مرضی سے اور امن کی خاطر خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا ہے۔

احسان اللہ احسان پاکستان میں کسی بھی شدت پسند تنظیم کے تیسرے ترجمان ہیں جو سکیورٹی فورسز کے قبضے میں آئے ہیں۔

ان سے قبل کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے قیام کے بعد اس کے پہلے باضابطہ مرکزی ترجمان مولوی عمر اور سوات طالبان کے ترجمان مسلم خان بھی زندہ پکڑے جا چکے ہیں۔

مولوی عمر کو سیکورٹی فورسز نے اورکزئی ایجنسی جاتے ہوئے قبائلی علاقوں میں اگست دو ہزار نو میں گرفتار کر لیا تھا۔

اس طرح اکثر شدت پسند طالبان رہنما فوجی کارروائیوں یا امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ہیں لیکن ترجمان کے ساتھ بات مختلف رہی۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے ان کی گرفتاری کی تصدیق ان افواہوں کے بعد سامنے آئی ہے جس میں شدت پسندوں کے ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ کی گرفتاری کی بات کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احسان اللہ احسان شدت پسند تنظیموں کے اندر بھی کافی متنازع رہے۔

احسان اللہ احسان بھی شدت پسندوں کے اس گروپ سے تعلق رکھتے تھے جو اکثر میڈیا میں اپنی موجودگی کو کافی سراہتے تھے۔

ترجمانوں میں سے وہ کافی ’پروایکٹو‘ ترجمان رہے اور نہ صرف ٹی ٹی پی بلکہ اس سے علحیدہ ہونے والی جماعت الحرار کے بھی کافی عرصے تک متحرک ترجمان رہے۔

انھیں اکثر فیس بک پر صحافیوں کو فرینڈ کی درخواست بھیجنے کے علاوہ اپنی تصاویر شیر کرنے کا بہت شوق تھا۔ وہ صحافیوں سے براہ راست جب تک ممکن تھا خود ٹیلیفون پر بات بھی کیا کرتے تھے۔

احسان اللہ احسان کی جگہ جماعت الحرار نے گذشتہ دنوں ہی نئے ترجمان کا ایک ویڈیو میں اعلان کیا تھا۔ تاہم نئے ترجمان کے لیے احسان اللہ احسان کا خیرمقدمی ویڈیو بیان بھی اس پیغام کا حصہ تھا۔ معلوم نہیں کہ انھوں نے نئے ترجمان کی تقرری سے قبل ہی یہ پیغام ریکارڈ کروایا تھا یا نہیں۔

احسان اللہ احسان شدت پسند تنظیموں کے اندر بھی کافی متنازع رہے۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے انھیں ایک مرتبہ مرکزی ترجمان کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ شیخ مقبول نامی ایک کمانڈر کو نیا ترجمان مقرر کر دیا تھا۔

سال دو ہزار تیرہ میں شمالی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے جاری کیے گئے ایک پمفلٹ میں ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے اپنے بیانات سے افغان اور پاکستانی طالبان میں اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے انھیں عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔

احسان اللہ احسان نے بحثیت ٹی ٹی پی کے ترجمان ملالہ یوسفزئی پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

اس سے قبل سال دو ہزار بارہ میں اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کو بیس کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔ رحمان ملک نے کہا تھا کہ احسان اللہ احسان کا تعلق تحریک طالبان سے نہیں بلکہ وہ ملک میں بیرونی عناصر کے لیے کام کر رہے تھے۔

تینوں بڑی شدت پسند تنظیموں کے ترجمانوں کا ایک سا مقدر عجیب اتفاق ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احسان اللہ احسان نے بحثیت ٹی ٹی پی کے ترجمان ملالہ یوسفزئی پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

مسلم خان کو ایک فوجی عدالت نے گذشتہ برس دسمبر میں سزا سنائی تھی۔ مولوی عمر کا مستقبل کیا ہے، اس بارے میں فوج نے کچھ نہیں بتایا ہے۔ یہ بھی آج حکومت نے نہیں بتایا کہ احسان اللہ احسان نے کن شرائط کی بنیاد پر اپنے آپ کو حکام کے حوالے کیا ہے۔ وہ ڈیل کیا تھی؟ دیگر شدت پسندوں کے لیے یہ ڈیل خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں