کیا ولی خان یونیورسٹی کی ساکھ تباہ ہوگئی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس یونیورسٹی میں کوئی ساڑھے بارہ ہزار طالبعلم مختلف شعبہ جات میں زیر تعلیم ہیں۔

عدم تشدد کی سیاست پر یقین رکھنے والے سیاستدان عبد الولی خان کے نام سے منسوب یونیورسٹی میں دل دہلا دینے والے تشدد کے واقعے کے بعد اس یونیورسٹی کے ماحول پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

عبد الولی خان یونیورسٹی دو ہزار کنال پر پھیلی خوبصورت عمارتوں اور میرون رنگ کے ماربل سے مزین ایک ایسی درسگاہ ہے جسے دیکھ کر یہ خوشی ٰضرور ہوتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایک اعلیٰ معیار کی درسگاہ قائم کی گئی ہے۔

اس یونیورسٹی میں تقریباً ساڑھے بارہ ہزار طالبعلم مختلف شعبوں میں زیر تعلیم ہیں۔

ولی خان یونیورسٹی میں ڈیجیٹل لائبریری، تحقیق کا مرکز، اور اعلیٰ تعلیم کے درجن سے زیادہ شعبے قائم ہیں ۔

یونیورسٹی کے اساتذہ نے بتایا کہ یونیورسٹی کو قائم ہوئے ابھی چند برس ہی ہوئے ہیں لیکن اعلیٰ تعلیمی معیار کی وجہ سے بین الاقوامی اور قومی سطح پر اس یونیورسٹی نے اپنا نام پیدا کیا ہے۔

اس یونیورسٹی میں دو سو کے لگ بھگ پی ایچ ڈی پروفیسر ہیں جو شاید پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں سے کہیں زیادہ بتائے جاتے ہیں۔ اس یونیورسٹی کے کیمسٹری کے شعبے نے پاکستان میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔

اس یونیورسٹی میں 13 اپریل کو نوجوان طالبعلم مشال خان کی مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد اب ایک بے یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے۔

یہاں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس واقعے نے یونیورسٹی کی ساکھ کو متاثر کیا ہے اور یہ کہ کیا اس یونیورسٹی نے جو نام کمایا تھا وہ سب کچھ تہس نہس ہوگیا ہے؟

مقامی لوگوں اور سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں قائم کی گئی اس یونیورسٹی میں کیا بھرتیاں میرٹ پر کی گئی تھیں؟ اس وقت بھی اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی سیٹ خالی پڑی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر احسان گذشتہ ماہ ریٹائر ہوگئے تھے لیکن ان کی جگہ پر کسی کی تعیناتی نہیں کی گئی۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے صرف اس یونیورسٹی میں ہی نہیں بلکہ دیگر آدھہ درجن یونیورسٹیوں میں بھی وائس چانسلر کی خالی آسامیوں پر اب تک بھرتیاں نہیں کیں۔

طالبعلم کی ہلاکت کے بعد اب پولیس کی تفتیشی ٹیمیں مختلف زاویوں سے واقعے کو دیکھ رہی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس بلوے میں یونیورسٹی کے ملازمین شامل تھے اور ان کی نشاندہی کے بعد انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب یونیورسٹی کے پرووسٹ پروفیسر ظاہر شاہ کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اچانک ہوا ،انھیں اس بارے میں پہلے کچھ معلوم نہیں تھا کہ ایسی کوئی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

حالات جیسے بھی ہوں اب جب یونیورسٹی دوبارہ کھلے گی اور وہاں تدریسی عمل کا آغاز ہوگا تو کتنے والدین اپنے بچوں کو اس یونیورسٹی اور اس یونیورسٹی کے اس ہاسٹل میں بھیج پائیں گے جہاں مشال خان کو تشدد کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں