مشال قتل کیس: ’قاتلوں نے توہین رسالت کا بہانہ بنایا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان کا کہنا تھا کہ مشال خان کے قتل کا واقعہ ملک کے لیے ایک فیصلہ کن گھڑی ہے

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالبعلم مشال خان کے قتل میں توہین رسالت کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

منگل کو صوابی میں مشال خان کے والدین سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ اس واقعے میں جس کسی بھی جماعت کے لوگ ملوث ہیں انھیں سزا دی جائے گی۔

٭پارلیمان توہینِ رسالت کے قانون کا غلط استعمال روکنے کے لیے پرعزم

٭توہین مذہب:’مشال خان پر عائد الزامات کے ثبوت نہیں ملے‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’قاتلوں کا مقصد کچھ اور تھا اور انھوں نے توہین رسالت کا بہانہ بنایا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ جس طرح مشال خان پر تشدد کیا گیا اس طرح کی حرکت جانور بھی نہیں کرتے۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ جس بھی جماعت کے لوگ اس جرم میں شریک ہوئے ہیں انھیں سزا دی جائے گی۔

عمران خان کا کہنا تھا 'پورے پاکستان میں چاہے دینی ہوں، چاہے سیاسی ہوں، سب متفق ہیں کہ جن لوگوں نے یہ کیا ہے انھیں سزا دی جائے۔'

عمران خان نے کہا کہ ’جس طرح صوبے کی پولیس نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے تفتیش کی اور لوگوں کو پکڑا، اس پر میں انھیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘

بعدازاں ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں عمران خان نے بتایا کہ ملاقات میں مشال خان کے والدین نے یونیورسٹی کا نام اپنے بیٹے کی یاد میں اس کے نام پر رکھنے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی مناسب درخواست ہے۔

ادھر منگل کو ایک ایسی نئی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں مشال خان کے قتل کے بعد نوجوانوں کا ایک گروہ نہ صرف ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہا ہے بلکہ قاتل کا نام ظاہر نہ کرنے کا حلف بھی اٹھا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عارف نامی شخص اپنا اور اپنے والد کا نام ظاہر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جو کوئی مشال کے قتل کی ایف آئی آر درج کروانا چاہتا ہے وہ انھیں مقدمۂ قتل میں نامزد کر سکتا ہے۔

بعد ازاں یہی شخص مشال خان کو گولی مارنے والے کا نام ظاہر نہ کرنے کا حلف لیتا ہے اور کہتا ہے کہ نام بتانے والا 'غدار' ہوگا۔

اس ویڈیو میں موجود ہجوم کو ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پس منظر میں نعرۂ تکبیر کی صدائیں بھی سنی جا سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل مشال خان کے قتل کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شائع ہوئی تھی اور پولیس نے اس مقدمے کے کئی ملزمان کی نشاندہی انھی ویڈیوز کی مدد سے کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں