پاکستان میں انصاف کے نظام میں تشدد کا استعمال کیوں؟

پاکستان
Image caption تشدد کے تمام ممکن طریقے مجھ پر استعمال ہوئے۔ جسے تھرڈ ڈگری ٹارچر کہا جاتا تھا: سہیل یافات

لاہور میں ڈیوس روڈ کے قریب ایک متوسط طبقے کی آبادی میں چند مرلوں پر مشتمل ایک گھر میں تین خاندان آباد ہیں۔ ان میں سے ایک سہیل یافات کا ہے۔ سہیل تین بچوں کے والد ہیں۔ اور اپنے محدود سے وسائل میں بظاہر ایک مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن یہ سب ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔

سنہ 2001 میں سہیل کو پولیس نے ساہیوال میں ہونے والے ایک قتل کے شبہے میں حراست میں لے لیا تھا۔

’ریاستی‘ تشدد اور جبر کی دنیا

وہ بتاتے ہیں کہ ’رات کے کسی پہر پولیس نے اچانک ریڈ کی اور مجھے گرفتار کرلیا۔ میں پوچھتا رہا کہ میرا قصور کیا ہے؟ انھوں نے مجھے پیٹنا شروع کر دیا۔ پھر میری آنکھوں پر پٹی باندھی اور مجھے گاڑی میں ڈال دیا۔‘

ان پر طویل عرصے تک قتل کا مقدمہ چلتا رہا اور 15 برس بعد انھیں بری کر دیا گیا۔ سہیل کہتے ہیں کہ اس دوران ان پر اعتراف جرم کے لیے بدترین تشدد کیا گیا۔

’تشدد کے تمام ممکن طریقے مجھ پر استعمال ہوئے۔ جسے تھرڈ ڈگری ٹارچر کہا جاتا تھا۔ میرے پیروں کے تلووں پر چھڑیاں ماری جاتیں۔ مجھے ساری ساری رات جگایا جاتا۔ برہنہ رکھا جاتا۔ حوالات کی سلاخوں کے ساتھ باندھ دیا جاتا اور دھمکیاں دی جاتیں کہ تمہارے گھر کی عورتوں کو اٹھا لیں گے۔ یہ سب صرف جبری طور پر قتل کا اعتراف کروانے کے لیے تھا۔‘

پاکستان میں اس طرح کی کہانیاں کوئی نئی نہیں اور تاثر یہ ہے کہ سب سے زیادہ تشدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں ہی کیا جاتا ہے۔

دو ہزار دس میں پاکستان نے تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کیے تھے۔ اس کنونشن کے تحت پاکستان اپنے معاشرے خاص طور پر انصاف کے نظام سے تشدد کا خاتمہ کرنے کا پابند تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں کادعوی ہے کہ پاکستان میں پانچ برسوں میں اس کنونشن کی کسی ایک شق پر بھی پوری طرح عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

پاکستان نے کنونشن پر عمل درآمد کے حوالے سے اقوام متحدہ میں سالانہ بنیادوں پر رپورٹ جمع کروانی تھی لیکن پہلی رپورٹ پانچ سال کی تاخیر سے جنوری دو ہزار سولہ میں پیش کی گئی۔

منگل کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے حکام اس رپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں پانچ برسوں میں اس کنونشن کی کسی ایک شق پر بھی پوری طرح عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

ان تنظیموں نے ملک میں تشدد کے کنونشن پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک متبادل رپورٹ تیار کی ہے جس میں کہا کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت اقدامات تو درکنار پاکستان ابھی تک تشدد کی قانونی تشریح اور تعریف تک نہیں کر سکا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جو اہلکار تشدد کرتے ہیں ان کے احتساب کا کوئی مؤثر نظام نہیں ہے۔

سہیل کہتے ہیں کہ ’اگر ٹارچر کا کوئی مقدمہ عدالت کے سامنے چلایا جائے، اس کا میڈیکولیگل سرٹیفیکٹ بھی پیش ہو جائے اور تشدد ثابت ہو جائے، تو پھر عدالت میڈیکولیگل سرٹیفیکٹ کو تفتیش کے لیے واپس اسی تھانے میں بھیج دیتی ہے جس کے خلاف تشدد کی شکایت کی جاتی ہے۔‘

پولیس کی حراست میں ہونے والے تشدد کی تفتیش کے لیے خودمختار ادارہ کیوں نہیں بن سکا؟

پنجاب کے سابق انسکپٹر جنرل پولیس شوکت جاوید کے خیال میں ’2002 تک تو پاکستان میں پولیس کے لیے برطانوی راج کا قانون پولیس ایکٹ 1861 رائج تھا۔ 2002میں نئے پولیس ایکٹ میں زیر حراست تشدد کے معاملے پر توجہ دی گئی لیکن الیکشن کے بعد ہی دو صوبوں سندھ اور بلوچستان نے اس قانون کو ختم کر کے پرانے قانون کی جانب واپسی اختیار کر لی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption ملک میں تشدد کے کنونشن پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک متبادل رپورٹ تیار کی ہے جس میں کہا کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت اقدامات تو درکنار پاکستان ابھی تک تشدد کی قانونی تشریح اور تعریف تک نہیں کر سکا ہے

لیکن دوسرے صوبوں خاص طور پر زیرحراست افراد پر تشدد کے لیے سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنائے جانے والے صوبے پنجاب میں نیا قانون رائج ہونے کے باوجود صورتحال میں بہتری کیوں نہیں آ سکی؟

شوکت جاوید کے مطابق ’پنجاب میں اس لیے زیادہ فرق نہیں پڑا کہ 2002 کے پولیس ایکٹ پر پوری طرح عمل ہی نہیں ہوا۔ اس کے تحت پولیس کے خلاف شکایات کے لیے ایک خودمختار پولیس کمپلینٹ اتھارٹی نے معرض وجود میں آنا تھا۔ جو ابھی تک بنی ہی نہیں۔‘

جبری گمشدگیوں کو بھی بین الاقوامی تنظیمیں تشدد کے زمرے میں رکھتی ہیں۔

اعداد و شمار کہتے ہیں کہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ بڑی تعداد میں سزائے موت پر عمل درآمد اور فوجی عدالتوں کے قیام نے بھی تشدد کی روک تھام سے متعلق پاکستان کے دعووں کو مشکوک بنا دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں