’فحاشی‘ کے ڈر سے عورتوں کی جشن میں شرکت پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Gul Hamaad Farooqi
Image caption 20 سے 24 اپریل تک بالائی چترال کے علاقے بونی میں چار روزہ جشن قاقلشت کا انعقاد کیا جارہا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں ایک مقامی تحصیل کے ناظم نے 20 اپریل سے بالائی چترال میں شروع ہونے والے موسم بہار کی ایک تقریب میں خواتین کے داخلے پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان تحصیل مستوج کے ناظم مولانا محمد یوسف کی طرف سے منگل کو ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے ایک بیان کیا گیا ہے۔ اس ناظم کا تعلق جمعیت علمائے اسلام (ف) سے ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 20 سے 24 اپریل تک بالائی چترال کے علاقے بونی میں چار روزہ جشن قاقلشت کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں مقامی اور غیر مقامی خواتین کی شمولیت پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔

تحصیل ناظم مولانا محمد یوسف نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جشن میں خواتین کی شمولیت پر پابندی لگانے کا فیصلہ علاقے کے عمائدین، ضلعی ناظم اور مقامی انتظامیہ کی مشاورت سے کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے ان کو اطلاع ملی تھی کہ غیر سرکاری تنظیموں کی چند خواتین جشن قاقلشت میں کسی مقابلے میں شرکت کرنے کا پروگرام بنارہی ہیں جس کے بعد یہ فیصلہ عمل میں لایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ جشن قاقلشت میں پہلے سے خواتین کے داخلے پر پابندی عائد ہے کیونکہ اس علاقے میں ایک مذہبی ماحول قائم ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ اس میں کوئی خلل پڑے یا عورتوں کی شرکت سے علاقے میں کسی قسم کی فحاشی یا عریانی کا تاثر پھیلے۔

تحصیل ناظم نے مزید بتایا کہ اس فیصلے کے مطابق تمام خواتین کے داخلے پر پابندی ہوگی چاہے وہ غیر مقامی سیاح ہوں یا مقامی خواتین ہوں۔

انھوں نے مزید کہا کہ گذشتہ سال کچھ غیر مقامی خواتین نے جشن قاقلشت میں شرکت کی تھی لیکن انھوں نے ایسا لباس پہنا ہوا تھا جسے مقامی طورپر قابل قبول نہیں سمجھا جاتا اسی وجہ سے اس سال سے تمام غیر مقامی خواتین کے آنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔

اس سلسلے میں چترال کے ضلعی انتظامیہ کا موقف معلوم کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے رابطے کی کوشش کی گئی تاہم ڈپٹی کمشنر سے بات نہیں کی جا سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption علاقے میں ایک مذہبی ماحول قائم ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ عورتوں کی شرکت سے علاقے میں کسی قسم کی فحاشی یا عریانی کا تاثر پھیلے: تحصیل ناظم

ادھر دوسری طرف چترال کے مقامی صحافی گل حماد فاروقی کا کہنا ہے کہ چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ ایک تحصیل ناظم کی طرف سے قرب و جوار میں واقع تمام تعلیمی اداروں اور مساجد کو خطوط بھیجے گئے ہیں جن میں ان کو کہا گیا ہے کہ خواتین کو اس جشن میں بھیجنے سے گریز کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ جشن قاقلشت موسم بہار کا ایک مقامی تہوار ہے جس کا انعقاد ہر سال ایک وسیع اور سرسبز میدان میں کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ جشن قاقلشت کا انعقاد چترال سے تقریباً ستر کلومیٹر دور بونی کے علاقے میں کیا جاتا ہے۔ اس جشن میں عام طورپر چترال کے روایتی کھیلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں پولو اور نشانہ بازی کے مقابلوں کے علاوہ اور دیگر کھیل یعنی کرکٹ، فٹ بال ، والی بال اور ہاکی وغیرہ کے مقابلے بھی شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں