لاہور: احمدی خاتون پروفیسر کا قتل، تین ملزمان گرفتار

لاہور پولیس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ بظاہر قتل معلوم ہوتا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جماعتِ احمدیہ سے تعلق رکھنے والی پروفیسر طاہرہ پروین ملک کے قتل کے معاملے میں تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

61 سالہ طاہرہ ملک منگل کی شب اپنی رہائش گاہ پر مردہ حالت میں پائی گئی تھیں۔

٭ ننکانہ صاحب میں ڈاکٹر عبدالسلام کے کزن کا قتل

٭ ’جماعتِ احمدیہ کے خلاف خبریں باعثِ تعصب‘

پولیس کے مطابق ان کو ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کیا گیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سی آئی اے نے موبائل فون کالز کے ڈیٹا کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا اور ان میں سے ایک یونیورسٹی کا ہی الیکٹریشن ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے آلۂ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

پروفیسر طاہرہ پروین نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی اور یونیورسٹی میں پڑھاتی تھیں۔

وہ جامعہ پنجاب کی رہائشی کالونی میں رہائش پذیر تھیں جہاں منگل کو مردہ حالت میں پائی گئی تھیں۔

جماعتِ احمدیہ پاکستان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کے دوران احمدی جماعت کے 6 افراد کو قتل کیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں