مشال قتل کیس: سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے سے روک دیا

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے مشال خان قتل کیس کی تحقیقات کے بارے میں ہفتہ وار بریفنگ دینے کا حکم دیا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم مشال خان کے قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران پشاور ہائی کورٹ کو اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے سے روک دیا ہے۔

شعبۂ صحافت کے طالبعلم مشال خان کو 13 اپریل کو ان کی یونیورسٹی میں مشتعل طلبا نے توہینِ مذہب کا الزام لگانے کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا تھا جبکہ ان کی لاش کی بےحرمتی بھی کی گئی تھی۔

’یونیورسٹی انتظامیہ نے مشال کے خلاف تقریر کرنے کو کہا‘

توہین مذہب:’مشال خان پر عائد الزامات کے ثبوت نہیں ملے‘

مشال قتل کیس: ’توہین رسالت کا بہانہ بنایا گیا تھا‘

جو مشال کے ساتھ ہوا تو آپ کیا کریں گے؟

چیف جسٹس ثاقب نثار نے گذشتہ سنیچر کو اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا سے 36 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کی تھی جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اس معاملے پر چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے عدالتی کمیشن بنانے کی درخواست کی تھی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو اس معاملے پر از خود نوٹس کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جب معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اس بات کی وضاحت کریں کہ انھوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو کمیشن بنانے کی درخواست کیوں دی۔

بینچ میں شامل جج صاحبان کا کہنا تھا کہ مردان یونیورسٹی کا واقعہ بدترین سانحہ ہے اور ان کے پاس اس کی مذمت کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TV
Image caption آئی جی خیبر پختونخوا کے مطابق قتل کے اس مقدمے کی 80 فیصد تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور جلد ہی چالان متعلقہ عدالت میں پیش کر دیا جائے گا

عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی کو بھی تحقیقاتی ٹیم کے کام پر اثرانداز ہونے یا پوائنٹ سکورنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس کیس کی تحقیقاتی ٹیم میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو کیوں شامل نہیں کیا گیا۔

سماعت کے دوران خیبر پختون خوا پولیس کے سربراہ صلاح الدین محسود نے عدالت کو بتایا کہ قتل کے اس مقدمے کی 80 فیصد تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور جلد ہی چالان متعلقہ عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی سوشل میڈیا پر مشال کے قتل کے بارے میں جو مواد شائع ہو رہا ہے اسے روکنے کے احکامات دیے جائیں تاہم عدالت نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشال خان کو 13 اپریل کو ان کی یونیورسٹی میں مشتعل طلبا نے توہینِ مذہب کا الزام لگانے کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا تھا

سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کی سماعت 27 اپریک تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اس کیس کی پیش رفت کے بارے میں ہفتہ وار بریفنگ دی جائے۔

ادھر مردان پولیس نے مشال قتل کیس میں اسحاق نامی ایک اور ملزم کو بھی گرفتار کیا ہے۔

بدھ کو ہونے والی گرفتاری گذشتہ روز سامنے آنے والی اس ویڈیو کے بعد عمل میں آئی جس میں نوجوانوں کے ایک گروہ کو مشال کے قتل کے بعد ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے اور قاتل کا نام ظاہر نہ کرنے کا حلف اٹھاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ڈی آئی جی مردان ڈویژن عالم شنورای کے مطابق اب تک اس پولیس نے اس مقدمے میں کل 24 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں ایف آئی آر میں نامزد 20 میں سے 16 ملزمان بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں