’قبائلی علاقوں میں کسی بھی پتھر یا درخت سے خانہ شماری کر لی جائے گی‘

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کی وجہ سے بیشتر مکانات تباہ ہو چکے ہیں اور ایک بڑی آبادی اپنے علاقوں سے باہر پناہ لیے ہوئی ہے۔ ان قبائلی علاقوں میں اب خانہ و مردم شماری کیسے ممکن ہو سکے گی؟

حکام کا کہنا ہے کہ جہاں کسی مکان کی بنیاد، کوئی پتھر یا درخت نشانی کے طور پر ہے تو اسے شمار کیا جائے گا اور مردم شماری کے لیے گھرانے کا کوئی ایک ہی فرد تمام افراد کی جگہ پر معلومات فراہم کر سکے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ 90 فیصد سے زیادہ متاثرین اپنے علاقوں کو واپس جا چکے ہیں لیکن زمینی حقائق کے مطابق متاثرین کی ایک بڑی تعداد اپنے علاقوں میں حاضری کے بعد واپس شہروں میں رہنے کے لیے آگئے ہیں اور ان کی واپسی کی وجہ ان علاقوں میں بنیادی ضروریات کی قلت ہے۔

آدھی آبادی گنتی میں آ گئی

مردم شماری اور کچی پینسل

بنوں میں شمالی وزیرستان کے قبائلی رہنما اس فکر میں ہیں کہ ان کے علاقوں میں اکثر مکانات تباہ ہیں، لوگ در بدر ہیں ایسے میں ان کی خانہ شماری کیا ہوگی اور مردم شماری کیسے ہو سکے گی؟

قبائلی رہنماؤں نے بتایا کہ ان کے علاقوں میں پانی نہیں ہے، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے اور بنیادی اشیا وہاں دستیاب ہی نہیں ہیں۔

ملک غلام خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑی تعداد میں متاثرین افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں ان کی واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں جبکہ ایسے لوگ بھی ہیں جو پاکستان کے مختلف شہروں میں رہائش پذیر ہیں اور ان کی رجسٹریشن نہیں ہو سکی ہے لہذا انھیں رجسٹر کیا جائے تاکہ ان کے علاقے کی اصل تعداد معلوم ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی مردم شماری باقاعدہ طریقے سے کی جائے کیونکہ ایف ڈی ایم اے کے اعداد و شمار پر انھیں یقین نہیں ہے۔ ان کے مطابق لوگوں کو شناختی کارڈ کے مسائل درپیش ہیں، کسی کا بلاک ہے تو کسی کے شناختی کارڈ پر دو پتے لکھے ہیں جس کی وجہ سے ان کی رجسٹریشن نہیں ہو سکی، اس لیے انھیں ایسے اعداد و شمار پر یقین نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت پہلے تمام متاثرین کو اپنے علاقوں میں آباد کرے اس کے بعد مردم شماری کی جائے۔

ملک فتح محمد صادق نے بتایا کہ گذشتہ مردم شماری میں ان کی تعداد دو لاکھ تھی جو بڑھ کر اب 13 سے 14 لاکھ تک ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے وقت اس قبیلے کے لوگوں کا موجود ہونا ضروری ہے جو ان ٹیموں کو بتا سکیں کہ یہاں مکان تھا اور کتنے لوگ آباد تھے۔

بنوں کے لنک روڈ پر تین سال پہلے ہزاروں خیمے لگائے گئے تھے جہاں شمالی وزیرستان کے متاثرین نے پناہ لی تھی لیکن اب وہاں چند ایک خیمے رہ گئے ہیں، باقی لوگ یا تو اپنے گھروں کو جا چکے ہیں اور یا اپنے علاقوں میں حاضری لگا کر واپس شہروں میں آباد ہو گئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے متاثرین نے کوئی سات سال پہلے فوجی آپریشن راہ نجات کے نتیجے میں ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پناہ لی تھی لیکن اب تک ان کی مکمل واپسی نہیں ہو سکی ہے۔

جنوبی وزیرستان ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ ظفر حیات خٹک نے اس حوالے سے بتایا کہ متاثرین کی واپسی اس ماہ کے آخر تک مکمل ہو جائے گی اور اب قبائلی علاقوں میں خانہ شماری اور مردم شماری کا طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خانہ شماری کے لیے جہاں کوئی آثار، بنیادیں، درخت یا کوئی پتھر پڑا ہے اور وہاں کوئی مکان کبھی تھا تو اسے ضرور شمار کیا جائے گا جبکہ مردم شماری کے لیے گھرانے کا کوئی بڑا اگر وہاں موجود ہے تو وہ مردم شماری کرا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقے میں 99 فیصد مکانات تباہ ہیں وہاں خواتین اور بچوں کے ساتھ رہنا مشکل ہے اس لیے خانہ اور مردم شماری کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن راہ نجات سات سال تک جاری رہا اور اس عرصے میں ایک نسل جوان ہو گئی ہے۔ بیشتر لوگ دور دراز علاقوں میں آباد ہیں ایسے میں قبائلی علاقوں میں خانہ اور مردم شماری کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں