’پورنوگرافک فلموں پر صرف ایک ملک سے لاکھوں روپے کمائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ FIA
Image caption سعادت امین کا ناروے میں مقمیم جیمز لنڈسٹورم نامی ایک شخص سے رابطہ تھا جسے گذشتہ سال اکتوبر میں ناروے ہی میں گرفتار کیا گیا تھا

صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا سے چند روز قبل بچوں کی پورنوگرافک فلمیں بیرونِ ملک بیچنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے شخص نے ایسی فلموں کے عوض صرف ایک ملک سے گذشتہ دس برس میں کم از کم 38 لاکھ روپے وصول کیے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کے مطابق خدشہ ہے کہ 45 سالہ ملزم سعادت امین کے مزید ممالک میں بھی لین دین کے معاملات تھے جن کی تفصیلات کے حصول کے لیے متعلقہ اداورں کو خط لکھ دیے گئے ہیں۔

٭ بچوں کی پورنوگرافک فلمیں، سرگودھا کا شہری گرفتار

٭ ’روزانہ 11 بچے جنسی زیادتی کا نشانہ‘

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ پیسوں کا لین دین کرنے والے بین الاقوامی ادارے ویسٹرن یونین کی طرف سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق سعادت امین نے 2007 سے لے کر گرفتاری سے قبل تک یورپی ملک سویڈن سے کم از کم 38 لاکھ پاکستانی روپے وصول کیے ہیں۔

’دورانِ تفتیش ملزم نے بتایا کہ یہ رقم ان کو سویڈن میں بچوں کی پورنوگرافک فلمیں اور فحش تصویریں خریدنے والے ایک شخص جیمز لنڈسٹورم نے بھیجی تھی جس سے سعادت امین کے روابط تھے۔‘

جیمز لنڈسٹورم کو گذشتہ سال اکتوبر میں ناروے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جس کے بعد رواں ماہ سعادت امین کو پاکستان میں ناروے کے سفارتخانے کی جانب سے پاکستان کی وزارتِ داخلہ کو مہیا کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا۔

Image caption بچوں کی پورنوگرافی

ایف آئی اے حکام کے مطابق انھوں نے پیسے بیرونِ ملک بھیجنے اور منگوانے والے ایک اور ادارے منی گرام کو بھی خط لکھ رکھا ہے جہاں سے سعادت امین کے دیگر ممالک میں موجود لوگوں سے پیسوں کے لین دین کی تفصیلات معلوم کی جائیں گی۔

دورانِ تفتیش ملزم نے ایف آئی اے کو بتایا ہے کہ انھوں نے برطانیہ میں موجود کچھ خریداروں سے بھی رقوم وصول کی ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ پیسے ان کو ویڈیو گیمز کی فروخت کے عوض بھیجے گئے۔

ایف آئی اے حکام کو خدشہ ہے کہ ممکنہ طور پر سعادت امین برطانیہ میں بھی پورنوگرافک فلمیں بھیجتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے مزید تصدیق تفتیش کے دوران کی جائے گی۔

اگر سعادت امین کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں شامل تینوں شقوں پر ان کو سزا ہو جاتی ہے تو ان کو مجموعی طور پر 15 برس قید اور ایک کروڑ دس لاکھ پاکستانی روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایف آئی اے کے مطابق سعادت امین اس کاروبار میں 2007 سے ملوث ہے۔ فائل فوٹو

ایف آئی اے کےمطابق سعادت امین بچوں کی پورنوگرافک فلمیں روس اور بنگلہ دیش سے کام کرنے والی ایسی ویب سائٹس سے چوری کرتا تھا جن تک رسائی صرف پیسوں سے خریدی جا سکتی ہے۔ انھیں پیسوں کے عوض ناروے میں جیمز لنڈسٹورم کو بیچتا تھا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق سعادت امین کے قبضے سے ایک ٹیرا بائیٹ یعنی ایک ہزار جی بی کی کمپیوٹر ہارڈ ڈرائیو برآمد ہوئی ہے جس میں موجود ڈیٹا نکالا جا رہا ہے جس میں مزید ایک سے دو دن لگ سکتے ہیں کیونکہ اس کو شواہد کو محفوظ کرنے کے عالمی سطح پر رائج طریقہ کار کے مطابق نکالا جا رہا ہے۔

اس ڈسک سے حاصل ہونے والے مواد کی روشنی میں ایف آئی اے کے تفتیشی افسران یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ آیا سعادت امین نے مقامی سطح پر بچوں کو ایسی پورنوگرافک فلموں کے بنانے میں استعمال کیا تھا یا نہیں۔

اب تک کی تفتیش ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے جن سے یہ ثابت ہو کہ اس نے مقامی سطح پر بچوں کو ایسی فلموں میں استعمال کیا ہو یا جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہو۔ تاہم اس کے قبضے سے مقامی بچوں کی کچھ ایسی تصویریں اور فلمیں ملیں تھیں جو برہنہ حالت میں لی گئیں تھیں۔

گرفتاری کے فوراٌ بعد ایف آئی اے نے سعادت امین کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا جس میں 21 اپریل تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں