پاک افغان سرحد: انگور اڈہ کے مقام سے گاڑیوں کی آمد ورفت شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاک افغان سرحد پر انگور اڈہ کے مقام سے جمعرات کو دونوں جانب سے گاڑیاں روانہ ہو گئی ہیں۔ انگور اڈہ سرحد کو کھولنے کا اعلان گذشتہ روز کیا گیا تھا۔

جنوبی وزیرستان ایجنسی سے سرکاری اہلکاروں نے بتایا کہ پاکستان سے کوئی ایک درجن کے لگ بھگ گاڑیاں افغانستان کی جانب روانہ ہوئی ہیں جبکہ افغانستان سے بھی کچھ گاڑیاں پاکستان کی حدود میں داخل ہوئی ہیں۔

یہ سرحد 17 فروری کو سیہون شریف میں خود کش حملے کے بعد ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی تھی۔ خیبر ایجنسی میں طور خم اور بلوچستان میں چمن کے مقام پر بھی سرحد اسی روز بند کر دی گئی تھیں۔

طور خم اور چمن کے مقام پر سرحد کوئی ایک ماہ سے زیادہ وقت کے لیے بند رہنے کے بعد 21 مارچ کو کھول دی گئی تھیں لیکن انگور اڈہ کے مقام پر سرحد نہیں کھولی گئی تھی۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ چند روز پہلے انگور اڈہ کے مقام پر دونوں ممالک کے اہلکاروں کے مابین فلیگ میٹنگ ہوئی تھی جس میں سرحد کھولنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ گذشتہ روز پاکستان کی جانب سے سرحد کھولی گئی جس کے بعد افغانستان نے بھی سرحد پر گیٹ ٹریفک کے لیے کھول دیا تھا۔

گذشتہ روز اس بارے میں خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں ایک اہم جرگہ بھی منعقد ہوا تھا جس میں حکام نے وہ تمام گاڑیاں مالکان کو واپس کرنے کا اعلان کیا تھا جو سرحد پر تحویل میں لی گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس جرگے میں مقامی قبائل کے رہنما، فوجی اور پولیٹکل انتظامیہ کے حکام شریک تھے۔

انگور اڈہ کے مقام سے روزانہ 40 سے 50 مال بردار گاڑیاں ہی سرحد عبور کرتی ہیں جبکہ اس مقام سے مسافر گاڑیاں کم ہی جاتی ہیں۔

سرحد کے قریب آباد لوگوں کی تجارت اور ان کے روزانہ کے معمولات سرحد کے دونوں جانب سے منسلک ہیں اور سرحد کی بندش سے مقامی قبائل کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ انگور اڈہ کے قریب محسود، وزیر، سلیمان خیل اور دوتانی خیل قبائل آباد ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں