’پاناما ون ختم، پاناما ٹو شروع ہو گیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسلم لیگ نواز کے رہنما عدالتی فیصلے کے بعد فتح کا نشان بناتے نظر آئے تھے

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما دستاویزات کے معاملے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے حکم کے باوجود حکومت کا موقف یہی ہے کہ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی ہار ہے تاہم تجزیہ نگار اس خیال سے متفق دکھائی نہیں دیتے۔

نامہ نگار شمائلہ خان کے مطابق ایاز امیر کہتے ہیں کہ اس فیصلے میں وزیرِ اعظم کو کوئی کلین چٹ نہیں ملی۔

پاناما کیس: سپریم کورٹ کا نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو تحقیقاتی عمل کا حصہ بننے کا حکم

اپوزیشن کا وزیرِاعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پاناما کیس: الزامات اور ان کے جوابات

'درحقیقت صورتحال یہ ہے کہ دو ججوں نے کہا ہے کہ نواز شریف کو نااہل قرار دینا چاہیے کیونکہ وہ صادق و امین نہیں رہے۔ عدالت نے پٹیشن کو مسترد نہیں کیا بلکہ کہا ہے کہ مزید تحقیقات ہونی چاہییں۔ تو اس لحاظ سے وزیرِاعظم کو کلین چِٹ نہیں ملی۔'

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'سیاسی طور پر جو توقعات تھیں کہ یہ بینچ وزیرِ اعظم کو گھر بھیج دے گا وہ چونکہ پوری نہیں ہوئیں تو جو تاثر ہوگا وہ یہی ہو گا کہ نواز لیگ، ان کے حمایتی یا وزیرِاعظم بچ گئے ہیں۔ وہ اسے اپنی قانونی فتح قرار دے رہے ہیں لیکن آئینی طور پر انھیں کلین چِٹ نہیں دی گئی ہے۔'

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے قیام پر ان کا کہنا تھا 'جے آئی ٹی اور کمشنز نے 70 سال میں تو پاکستان میں کوئی معجزات نہیں دکھائے اور اسی لیے جن لوگوں کو توقع تھی کہ وزیرِ اعظم کی گردن خطرے میں ہے وہ اسی جے آئی ٹی کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں کہ اس ایشو کو دفنا دیاگیا ہے اور اس سے کچھ نہیں نکلےگا۔ ابھی تک ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹی کا کچھ نہیں نکلا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایاز امیر کے مطابق عدالت نے پٹیشن کو مسترد نہیں کیا بلکہ کہا ہے کہ مزید تحقیقات ہونی چاہییں۔ تو اس لحاظ سے وزیرِاعظم کو کلین چِٹ نہیں ملی

ان خیالات کے برعکس تجزیہ نگار طلعت حسین کہتے ہیں کہ سیاسی طور پر یہ بظاہر نواز لیگ کی جیت ہے۔

'یہ کوئی قانونی کیس تو تھا نہیں، پی ٹی آئی بنیادی طور پر ایک سیاسی کیس لڑ رہی تھی۔ انھیں یہ توقع تھی کہ عدالت کے فیصلے کے بعد وزیرِ اعظم نہیں رہیں گے لیکن اب عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف وزیرِ اعظم کے طور پر موجود ہیں اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نواز لیگ سیاسی طور پر جیتی ہوئی نظر آتی ہے۔'

انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'قانونی طور پر عدالت نے انویسٹیگیشن کا دائرہ کار طے کیا ہے جس کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ نواز شریف کے خاندان نے باہر پیسے کیسے بھیجے اور جائیدادیں کیسے بنائیں؟ یہ ایک لمبا عمل ہے اور اُس میں سے کیا نکلے گا یہ تو بعد کی بات ہے۔ فی الحال اگر نواز لیگ خوشیاں منا رہی ہے تو حق بجانب ہے۔'

سینیئر صحافی حامد میر کہتے ہیں کہ جب تک کہ جے آئی ٹی اپنی انکوائری مکمل نہیں کرتی، اگر نواز شریف استعفے کا اعلان کر دیں تو اخلاقی طور پر ان کو برتری حاصل ہو جائےگی۔

'نواز شریف کی حکومت فی الحال بچ تو گئی ہے لیکن ان کی ساکھ اور عزت نہیں بچی۔ بظاہر تو حکومت کے وزرا فتح کےنعرے لگا رہے ہیں لیکن حکومت کی قانونی ٹیم مشورہ دے رہی ہے کہ اس فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست جمع کرنی چاہیے۔'

حامد میر کا کہنا ہے کہ فیصلے میں لکھا ہے کہ وزیرِ اعظم کی نااہلی کا معاملہ دوبارہ زیرِ بحث آ سکتا ہے۔ یہ پاناما ون ختم ہوا ہے، پاناما ٹو شروع ہو گیا ہے۔ اگر نواز شریف کہتے ہیں کہ ان کی فتح ہوگئی ہے تو ایسا کچھ نہیں ہے۔'

اسی بارے میں