’اتنی بجلی تو دے دیں کہ فون چارج کر کے شیر آیا شیر آیا لکھ سکیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

پاکستان میں وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا بہت عرصے سے چرچا رہا اور مقدمے سے زیادہ شور اس کے فیصلے کے انتظار میں مچتا رہا۔ فیصلہ محفوظ ہونے سے فیصلہ آنے تک مقدمے کے مرکزی فریقین حکمران جماعت مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے دلچسپ اور تند و تیز بیانات آتے رہے۔

’نواز شریف اور ان کے بیٹے تحقیقاتی عمل کا حصہ بنیں‘

وزیراعظم مستعفی ہو جائیں، اپوزیشن کا مطالبہ

یہی حال ان جماعتوں کے حامیوں کا تھا لیکن فیصلہ آتے ہی یہی بیان مخالفین کے لیے سوشل میڈیا پر لطائف میں بدل گئے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا ’کہا جا رہا تھا کہ فیصلہ صدیوں تک یاد رکھا جائے گا، کہیں وہ یہ تو نہیں کہنا چاہتے تھے کہ فیصلہ سردیوں تک یاد رکھا جائے گا۔‘

جہاں ایک طرف فیصلہ کی تاریخ اور مہینے کے اعداد 4.20 کو استعمال کرتے ہوئے دلچسپ کمنٹس کیے جا رہے ہیں وہیں ایک صارف نے طویل انتظار کے بعد آنے والے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ایک تصویر ٹویٹ کی جس میں متعدد بار لکھا ہے کہ ’کمیشن بنے گا‘ ٹویٹ مزید لکھا کہ’ 540 صفحات کے فیصلے میں کیا درج ہے‘۔

آصف بلوچ نے فیس بک پر لکھا ’539 صفحات ضائع کیے، یہ فیصلہ تو ایک ہی صفحے پر لکھا جا سکتا تھا۔‘

ایک صارف دانیال سعید نے ٹویٹ کیا ’مجھے سپریم کورٹ کا ہومیو پیتھک فیصلہ نہیں چاہیے۔‘

وہیں کچھ لوگ وزیرِ اعظم کے نااہل ہونے کا خطرہ ٹلنے پر ان کا ساتھ دینے کے ساتھ ساتھ بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر طنز کرنا نہیں بھولے۔ متعدد بار شیئر کی جانے والی ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے ’میاں صاحب اتنی بجلی تو دے دیں کہ فون چارج کر کے شیر آیا شیر آیا لکھ سکیں۔‘

ٹوئٹر پر اس وقت پانامہ کیس کے ساتھ ساتھ ’ #اناللہ_وانا_الیہ_راجعون‘ بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔

ایک صارف جہاں زیب نے اسی ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا ’انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہوتا ہے لیکن پاکستان میں انصاف سے انکار ہوا اسی لیے اس میں تاخیر ہوئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ٹوئٹر پر اس وقت پانامہ کیس کے ساتھ ساتھ #اناللہ_وانا_الیہ_راجعون بھی ٹرینڈ کر رہا ہے

محمد علی اسلم نے ٹویٹ کیا کہ ’اُن نون لیگی کارکنوں کے لیے ایک منٹ کی خاموشی جو سپریم کورٹ کے فیصلے پر جشن منا رہے ہیں کیونکہ کسی ایک بھی جج نے وزیرِ اعظم کو معصوم قرار نہیں دیا۔‘

دو ججوں کے وزیرِ اعطم کو نااہل قرار دینے کے حق میں فیصلہ دینے پر صحافی مبشر زیدی کےٹویٹ کیا کہ ’کاش شیخ رشید دو کے بجائے تین بکروں کا صدقہ دیتے تو فیصلہ مختلف ہوتا۔‘

دونوں کی جماعتوں کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو اپنے حق میں بتانے پر ایک فیس بک صارف نے لکھا عمران خان اور نواز شریف مٹھائیاں کھا رہے اور باقی قوم ڈسپرین، فیصلہ واقعی تاریخی ہے۔‘

ایسے ہی خیالات عندلیب ملک کے تھے جن کا کہنا تھا ’دونوں ہی جماعتیں جشن منا رہے ہیں لیکن اس میں عوام کہاں ہیں۔

لاریب احمد نے سپریم کورٹ، پاناما کیس اور عمران خان کے ہیش ٹیگ کے ساتھ مشروبات میں انعامی سکیم کے تحت بوتل کے ڈھکن میں لکھے ’دوبارہ کوشش کریں‘ کی تصویر پوسٹ کی۔

ایک اور استہزائیہ پوسٹ میں شاہ میر جاوید نے ایک تصویر پوسٹ کی جس میں بریکنگ نیوز کی صورت لکھا گیا ’آئی لو یو ٹو، وزیرِ اعظم کا سپریم کورٹ کو جواب۔‘

ایک فیس بک صارف نے لکھا ’میچ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوا ہے، اگلی سیریز کا انتظار کریں۔‘

اسی بارے میں