عدالت کا ’ہومیوپیتھک فیصلہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونوں جماعتوں کی قیادت نے سمجھ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے کارکنوں کو سپریم کورٹ کے باہر جمع ہونے سے منع کیا تھا

پاناما لیکس کے فیصلے سے پہلے ہی سپریم کورٹ کے اردگر کرفیو کا سماں تھا کسی بھی ایسے شخص کو سپریم کور ٹ اور شاہراہ دستور سے بھی گزارنے کی بھی اجازت نہیں تھی جس کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا۔

معاملہ صرف سپریم کورٹ کی عمارت میں داخل ہونے کا نہیں تھا بلکہ سب سے اہم معاملہ کورٹ روم نمبر ایک میں پہنچنے کا تھا جہاں پر پاناما کا فیصلہ سنایا جانا تھا اور وہاں صرف وہی افراد جاسکتے تھے جنہیں خصوصی پاسز جاری کیے گئے تھے۔

مقامی وقت کے مطابق دن ایک بجے کے قریب جب کورٹ روم نمبر ایک کا دروازہ کھولا گیا لوگوں اور بالخصوص وکلا کا جم غفیر کورٹ روم نمبر ایک کے باہر لگائے گئے واک تھرو گیٹ کو روندتے ہوئے کمرہ عدالت میں داخل ہو گیا۔

کورٹ روم نمبر ایک کے باہر کھڑے ہوئے پولیس اہلکار ایک بجے سے پہلے ہی وفاقی وزرا کو پروٹوکول کے ساتھ کمرہ عدالت میں لے گئے جس پر وہاں پر موجود پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شریں مزاری اور دیگر رہنماوں نے اس پر شدید احتجاج کیا۔

کمرہ عدالت کی ایک جانب وفاقی وزرا اور حکمراں اتحاد میں شامل ارکان کی تعداد موجود تھی جبکہ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیٹھے ہوئے تھے۔

دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سادہ کپٹروں میں ملبوس پولیس اہلکاروں کی ایک قابل ذکر تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کمرہ عدالت میں پہنچنے والے اخری رہنما تھے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کمرہ عدالت میں پہنچنے والے اخری رہنما تھے لوگوں کی کثیر تعداد دیکھ کر عمران خان کے منہ سے بےساختا جملہ نکلا کہ ’یہاں پر کوئی جلسہ ہو رہا ہے۔‘

وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر حسنات شاہ جو پاناما لیکس کی سماعت میں کم ہی نظر آئے فیصلے کے روز روسٹم کے قریب کھڑے ہوئے اور بڑی تیزی سے منہ میں کچھ پڑھ کر اس طرف پھوک رہے تھے جہاں پر ججز نے بیٹھ کر فیصلہ سنانا تھا۔

پیر حسنات قومی اسمبلی کے اجلاس میں کسی بھی سانحے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے دعائے مغفرت بھی کرواتے ہیں۔

دو بج کر پانچ منٹ پر سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ فیصلہ سنانے کے لیے کورٹ روم نمبر ایک میں پہنچ گیا۔ عدالت نے مکمل فیصلہ تو نہیں سنایا لیکن اس کا ’آپریٹیو پارٹ پڑھ کر سنایا۔ جب تین ججز نے تحقیقاتی ٹیم بنانے کا فیصلہ سنایا تو لیگی رہنما خوشی سے تالیاں بجانے لگے جس پر عدالت نے خاموش رہنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد جب بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد کا اختلافی نوٹ پڑھا گیا تو اس پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے ۔ فیصلہ سنانے سے پہلے بینچ کے سربراہ نے کہا تھا کہ عدالتی فیصلے پر ردعمل سپریم کورٹ میں نہیں بلکہ باہر جاکر دیں تاہم اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

فیصلہ سننے کے بعد وفاقی وزرا اور لیگی رہنما فخریہ انداز میں کمرہ عدالت سے باہر نکلے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ سمیت دیگر رہنما کی باڈی لینگویج کافی مایوس کن تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلم لیگی رہنما سپریم کورٹ کے باہر میٹھائیاں تقسیم کرتے رہے

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصلہ سننے کے لیے کورٹ روم میں اکھٹے داخل ہوئے تھے جبکہ اُن کی واپسی ایک ایک کرکے ہوئی اور کسی نے بھی میڈیا کے نمائندوں سے بات نہیں کی۔

پاکستان تحریک انصاف کے ایک رہنما چوہدری اعجاز نے اپنی جماعت کے سیکرٹری جنرل جہانگر ترین سے پوچھا کہ ’ایہہ کِی ہویا‘ جس کا اُنھوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور دونوں رہنما سپریم کورٹ کے احاطے سے باہر چلے گئے۔

کمرہ عدالت میں موجود وکلا نے اس فیصلے کے بعد اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اس فیصلے کو ’ہومیوپیتھک‘ فیصلہ قرار دے دیا ہے جس کا نہ کسی کو فائدہ ہوا اور نہ ہی نقصان۔

مسلم لیگی رہنما سپریم کورٹ کے باہر میٹھائیاں تقسیم کرتے رہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں نے بنی گالہ پہنچ کر میٹھائی کا مزہ چکھا۔

دونوں جماعتوں کی قیادت نے سمجھ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے کارکنوں کو سپریم کورٹ کے باہر جمع ہونے سے منع کیا تھا جس کی وجہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں