چترال میں ایک شخص پر توہینِ مذہب کے الزام کے بعد کشیدگی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
چترال میں ایک شخص پر توہینِ مذہب کے الزام کے بعد کشیدگی

پاکستان کے صوبے خیبر پختونحوا کے ضلع چترال میں ایک شخص پر توہینِ مذہب کے الزام کے بعد لوگوں کے مشتعل ہونے سے علاقے میں کشیدگی کی صورتحال ہے۔

اطلاعات ہیں کہ خیبر پختونخوا کے دور افتادہ ضلع چترال میں ایک شخص نے مسجد میں مبینہ طورپر گستاخانہ گفتگو کی جس کے بعد پولیس اس شخص کو تھانے لے گئی ہے۔

توہین مذہب قانون کا پاکستان میں ارتقاء

’توہینِ مذہب‘: خواتین نے ملزم کو 12 سال بعد مار ڈالا

توہینِ مذہب کا الزام، مردان کی یونیورسٹی میں طالب علم ہلاک

مقامی لوگوں نے بتایا کہ مشتعل لوگوں نے تھانے کا گھیراؤ کیا اور تھانے کے گیٹ کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔

پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل پھینکے تاہم آخری اطلاعات آنے تک پولیس تھانے کے سامنے بڑی تعداد میں مقامی لوگ موجود ہیں اور نعرہ بازی کر رہے تھے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے مظاہرین سے مذاکرات کیے ہیں لیکن یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے جس کے بعد فرنٹیئر کور کے حکام نے مذاکرات شروع کیے ہیں۔

Image caption مشتعل مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ توہینِ مذہب کے ملزم کو ان کے حوالے کیا جائے

مشتعل مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ توہینِ مذہب کے ملزم کو ان کے حوالے کیا جائے۔

ضلعی انتظامیہ کے حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ مذکورہ شخص کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ہے اور میڈیکل بورڈ کی تجویز بھی دی گئی ہے جس میں اس شخص کے ذہنی توازن کا جائزہ لیا جائے گا۔

اسی بارے میں