جے آئی ٹی کے سامنے سوال کیا؟

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں حکمران خاندان کی لندن میں جائیدادوں کی اصل ملکیت کا تعین کرنے کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو کن حقائق تک پہنچنا ہے اس کا تعین بھی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کر دیا ہے۔

عدالت نے ان چودہ سوالات کو بھی جمعرات کے روز جاری ہونے والی تفصیلی فیصلے کا حصہ بنایا ہے جن کے جواب پانچ رکنی بنچ دو ماہ کی مسلسل سماعت کے دوران نہیں پہنچ سکا۔

پاناما کیس: اختلافی نوٹوں میں کیا کہا گیا ہے؟

’پاناما ون ختم، پاناما ٹو شروع ہو گیا ہے‘

’نواز لیگ کس منہ سے عوام میں جانا چاہتی ہے‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کو جس بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنا ہے وہ یہ ہے کہ کیا وزیراعظم میاں محمد نواز شریف یا ان کے زیرکفالت افراد یا ان سے متعلق افراد نواز شریف کے معلوم (اعلان کردہ) ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے تو نہیں رکھتے؟

اس کے علاوہ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں جن سوالوں کا ذکر کیا ہے تاکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ان تک پہنچ سکے وہ یہ ہیں۔

* گلف اسٹیل مل (میاں محمد شریف کی ملکیت) کیسے وجود میں آئی؟

* یہ ادارہ کیوں فروخت کیا گیا؟

* اس کے ذمہ واجبات کا کیا بنا؟

* اس کی فروخت سے ملنے والی رقم کہاں استعمال ہوئی؟

* اس مل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم جدہ، قطر اور پھر برطانیہ کیسے منتقل کی گئی؟

* کیا نوے کی دہائی کے اوائل میں حسن اور حسین نواز شریف اپنی کم عمری کے باوجود اس قابل تھے کہ وہ فلیٹس خریدتے یا ان کے مالک بنتے؟

* کیا (قطری) حماد بن جاسم الثانی کے خطوط کا اچانک منظر عام پر آنا حقیقت ہے یا افسانہ؟

* حصص بازار میں موجود شیئرز فلیٹس میں کیسے تبدیل ہوئے؟

* نیلسن اور نیسکول نامی کمپنیوں کے اصل مالکان کون ہیں؟

* ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ نامی کمپنی کیسے وجود میں آئی؟

* حسن نواز شریف کی زیر ملکیت فلیگ شپ انوسٹمنٹ اور دیگر کمپنیوں کے قیام کے لیے رقم کہاں سے آئی؟

* ان کمپنیوں کو چلانے کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا؟

* حسین نواز شریف نے اپنے والد میاں محمد نواز شریف کو جو کروڑوں روپے تحفتاً دیے وہ کہاں سے آئے؟

عدالت کے مطابق یہ تمام سوالات اس مسئلے کی جڑ ہیں اور ان کے جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔ ان سوالوں کے جواب تک پہنچنے کے لیے عدالت نے چھ رکنی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں وفاقی تحقیقاتی ارادے (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، سٹیٹ بینک آف پاکستان، مسلح افواج کے انٹیلی جنس ادارے (آئی ایس آئی) اور بری فوج کے انٹیلی جنس ادارے (ایم آئی) کے نمائندے شامل ہوں گے۔

اسی بارے میں