' سب گاڈ فادر دیکھ رہے ہوں گے'

سوشلستان میں پاناما کا ڈراپ سین اپنے آخری دموں پر ہے اور اب اس کے سیکوئیل کی تیاریاں ہیں۔ دخترِ اول کے زیرِ انتظام ’کی بورڈ جنگجو‘ اور پی ٹی آئی اے کے مختلف رہنماؤں کے سوشل میڈیائی جتھے سب صف آرا ہور ہے ہیں اور فیصلے کے بعد کی بے یقینی اور ہڑبونگ سے باہر آنے کی کوششیں زور و شور سے جاری ہیں۔ جیسے یہ سارا معرکہ ٹوئٹر اور فیس بُک پر بذریعہ وٹس ایپ ہی تو لڑا جائے گا۔ مگر ہم آج بات کریں گے گاڈ فادر کی اور اس سے بالکل مراد سپریم کورٹ کے فیصلے میں ذکر کیے جانے والے جملے کی ہے۔

'سارے پٹواری گاڈ فادر دیکھ رہے ہوں گے'

سپریم کورٹ کے فیصلے کا آغاز مشہور ناول نگار ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول 'گاڈ فادر' کی ایک لائن سے کیا ہے جس پر بعد میں شہرہ آفاق فلم بھی بنائی گئی تھی۔

وہ جملہ ہے کہ 'ہر خزانے کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے' اور اس پر شریف خاندان کے مخالفیں ہی نہیں بہت سے دوسرے بھی سوشل میڈیا پر تبصرے کر رہے ہیں۔

مائیکل کوگلمین نے تو یہ لکھا کہ 'اگر گاڈ فادر کی لائن آپ کو 530 صفحات کے فیصلے کو پڑھنے پر آمادہ نہیں کرتی تو پھر کیا کرے گا؟'

صغیر مرزا نے لکھا 'میں آج ہی گاڈ فادر ڈھونڈوں گا، یقیناً دلچسپ ہو گا کیونکہ اس کی مماثلت ہمارے شاہی خاندان سے بہت زیادہ ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی میمز

عُزیر صدیقی کے مطابق 'گاڈ فادر کا جملہ 530 صفحات کی کہانی بیان کرتا ہے۔ یہ ایک سطر فیصلہ ہے۔'

انزل شاہ نے تو یہ تک مطالبہ کر دیا کہ 'اس ناول کو آئینِ پاکستان کا حصہ بنا دیا جائے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سوشل میڈیا پر میمز صرف نواز شریف کی ہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے خلاف بھی بنائی گئیں

مگر سب اس بات سے متفق نہیں جیسا کہ معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں کہا کہ 'گاڈ فادر کے ساتھ مشابہت دینی۔ تو ایک تعصب خودبخود نظر آتا ہے۔ اور میں سمجھتی ہوں کہ ایک بہت اچھے جج ہیں ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آپ اپنا فیصلہ لکھتے جو بھی ہے برا بھلا۔ اُس کو نا اہل قرار دیتے۔ مگر اپنا تعصب اتنا ابھار کر باہر نکالنا میں نہیں سمجھتی کہ یہ ایک جج کو ذیب دیتا ہے۔'

عاصمہ نے آخر میں کہا کہ 'میں امید کرتی ہوں کہ اگلا فیصلہ جو ہو گا وہ چارلی ولسن سے شروع ہو گا۔'

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے مذکورہ جج صاحب نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے فیصلے میں اپنے اضافی نوٹ کا آغاز خلیل جبران کی شاعری سے کیا تھا۔

سائبر جرائم کی وجہ فری ہیکنگ ٹول

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ایک ایسا پاتھ وے جاری کیا ہے جس میں سائبر کرائمز میں نوجوانوں کے ملوث ہونے کے عمل پر لکھا گیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق بہت سے بچے آن لائن گیم ویب سائٹس سے 'چِیٹس' یعنی گیم میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے شارٹ کٹس تلاش کرنے سے اس عمل کا آغاز کرتےہیں۔

اس رپورٹ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انٹرنیٹ نئی نوعیت کے مجرم پیدا کر رہا ہے اور ایسے بچے جو عام زندگی میں جرم کرنے سے گھبرائیں یا ڈریں آن لائن دنیا میں دوسروں کے پاسورڈ، فیس بُک پروفائلز اور ذاتی اور اہم معلومات چوری کرتے ہیں۔

اس سے بڑھ کر ایسے بچے آگے جا کر بڑے جرائم جن میں بینکنگ اور دوسروں کے اکاؤنٹس کی ہیکنگ جیسے جرائم ہیں وہ کرتے ہیں۔

سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان نئے آن لائن جرائم کرنے والوں کی عمریں کم ہوتی جا رہی ہیں جن میں بعض کی عمر صرف بارہ برس ہے مگر اس عمر میں ان کا مقصد زیادہ تر مہم جوئی ہوتا ہے نہ کہ پیسے کا حصول۔

اس ہفتے کا تعارف

دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات آئے روز ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے بہت سے ایسے واقعات ہیں جو بین الاقوامی خبروں پر نظر نہیں آتے۔ ٹوئٹر پر اکاؤنٹ تمام واقعات اور ایسے اکاؤنٹس پر نظر رکھتا ہے اور ان سے حاصل شدہ معلومات شیئر کرتا ہے جو دنیا بھر میں سامنے نہیں آتے۔ اگر آپ اس حوالے سے تحقیق کرتے ہیں یا جاننا چاہتے ہیں تو انہیں اس لنک پر فالو کر سکتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Shajie Hussain
Image caption برائیٹلنگ کے ڈی سی تھری طیارے نے گذشتہ دنوں اپنے عالمی ٹور کے دوران کراچی کے بین الاقوامی ہوائے اڈے پر اتر کر ایک دن پڑاؤ کیا۔ اس طیارے کو 1940 میں امیرکن ایئرلائنز کے لیے بنایا گیا اور اس کے ساتھ کے اب تک صرف 60 کے قریب طیارے قابلِ پرواز حالت میں ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ FAROOQ NAEEM
Image caption اسلام آباد کے ایک نواحی علاقے کا منظر جہاں کھلے گٹر اور نالیاں واضح ہیں۔

متعلقہ عنوانات