مشال خان قتل کیس میں ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی

مشال خان تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کی ہلاکت کے بعد اب ایک نئی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں کچھ لوگ اشتعال دلا رہے ہیں اور نعرہ بازی کر رہے ہیں۔

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں شعبۂ صحافت کے طالبعلم مشال خان کو 14 اپریل کو مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کا الزام لگا کر فائرنگ اور تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق اس کیس میں پولیس نے مزید دو افراد کو حراست میں لیا ہے جس کے بعد گرفتاریوں کی تعداد 30 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

٭ توہین مذہب:’مشال خان پر عائد الزامات کے ثبوت نہیں ملے‘

٭ ’یونیورسٹی انتظامیہ نے مشال کے خلاف تقریر کرنے کو کہا‘

اس نئی ویڈیو میں چند لوگ مشتعل نظر آ رہے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ’آؤ اسے ڈھونڈتے ہیں‘ لیکن اس میں کسی کا نام صاف نہیں سنا جا رہا۔ اس ویڈیو میں بیشتر افراد کی شناخت آسانی سے ہو سکتی ہے۔ یہ ویڈیو مشال کے قتل سے پہلے کی ہے اور اس ویڈیو کے آخر میں ایک شخص یہ کہتا ہے کہ یہ موبائل بند کر دو اور اس کے بعد ویڈیو بند ہو جاتی ہے۔

ادھر پولیس نے مزید دو افراد کو ضلع چارسدہ کے علاقے تنگی اور نستہ سے حراست میں لیا ہے۔ ان افراد کو حراست میں لینے کے بعد اس وقت پولیس کی تحویل میں کل ملزمان کی تعداد 30 سے زیادہ ہو گئی ہے جن میں سے بیشتر کو عدالت کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے۔ سنیچر کو مجسٹریٹ کے سامنے چار ملزمان کو پیش کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطاب یہ چاروں افراد اس یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں۔

پولیس مشال خان کے قتل کے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس کیس میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ ساتھ ملازمین کو بھی شامل تفتیش کیے گیا ہے۔

اسی بارے میں