چترال: توہین مذہب کے ملزم کے طبی معائنے کا حکم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
چترال میں ایک شخص پر توہینِ مذہب کے الزام کے بعد کشیدگی

خیبر پختونخوا کے دور افتادہ ضلعے چترال میں مبینہ طور پر گستاخی کرنے والے شخص کو سنیچر کو سوات کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے کے بعد نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ ملزم کے ذہنی توازن کا اندازہ لگانے کے لیے اس کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

چترال شہر میں گذشتہ روز کے ہنگامے کے بعد صورتحال سنیچر کو معمول پر رہی۔

ضلع چترال کے ڈپٹی کمشنر شہاب یوسفزئی نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیزاللہ خان کو بتایا کہ چترال شہر میں پولیس اور لیویز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ شہر میں دفع ایک سو چوالیس بھی نافذ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا صرف چند لوگ آئے اور انھوں نے اپنے اپنے مطالبات پیش کیے ہیں۔

چترال میں گذشتہ جمعے کی نماز کے وقت ایک شخص پر الزام لگایا گیا تھا کہاس نے گستاخانہ الفاظ کہے ہیں جس کے بعد لوگ مشتعل ہو گئے تھے۔ پولیس نے مذکورہ شخص کو تحویل میں لے لیا تھا جبکہ مشتعل مظاہرین نے پولیس تھانے پہنچ کر اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا اور مظاہرین نے توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔

پولیس نے مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور یہ سلسلہ جمعے کی رات دس بجے تک جاری رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی آنے جانے والوں کی سخت چیکنگ کی جاتی رہی

مقامی لوگوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ اور مظاہرین کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات اس وقت کامیاب ہوئے جب مذکورہ شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی اور اس میں دہشت گردی کے دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ سنیچر کو چترال شہر میں چترال سکاؤٹس اور ضلع دیر سے آئی اضافی پولیس کے نفری تعینات کی گئی تھی جو شہر میں مسلسل گشت کرتی رہی۔

اگرچہ شہر میں واقع تعلیمی ادارے بند تھے لیکن امتحانات معمول کے مطابق ہوئے ہیں۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی آنے جانے والوں کی سخت چیکنگ کی جاتی رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں