عدالت کا احترام یقینی بنانا سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے: چیف جسٹس ثاقب نثار

میاں ثاقب نثار تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan
Image caption چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ تمام فیصلے قانون اور آئین کو سامنے رکھتے ہوئے کرتی ہے۔'

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں عدالتی فیصلوں میں اختلافی نوٹ لکھے جاتے ہیں لیکن ایسا کہیں نہیں ہوتا جیسا پاناما لیکس کے فیصلے کے بعد پاکستان میں ہو رہا ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے یہ ریمارکس پیر کو بنی گالہ میں تجاوزات کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے۔

٭ پاناما کیس: اختلافی نوٹوں میں کیا کہا گیا ہے؟

اس معاملے کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس ثاقب نثار نے انھیں مخاطب کر کے کہا کہ 'عدالتیں قانون کے مطابق کام کرتی ہیں، قوم کے لیڈر ہونے کے ناطے آپ سمیت تمام سیاست دانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عدالت کا احترام یقینی بنایا جائے۔'

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 'ہم کوئی قاضی نہیں۔۔۔سپریم کورٹ قانون کے مطابق کام کرتی ہے اور عدالت عظمیٰ تمام فیصلے قانون اور آئین کو سامنے رکھتے ہوئے کرتی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ عدالتوں پر اعتماد کرتے ہوئے یہاں آتے ہیں اور ملک میں عدالت عظمی کے بارے میں پیدا کی جانے والی بداعتمادی کو ختم کرنا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کو پاکستان کی سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہے

اس از خود نوٹس کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کو پاکستان کی سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاناما لیکس سے متعلق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

عمران خان نے پاناما کیس کے حوالے سے کہا کہ وہ اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، پاناما کیس کی سماعت جس طرح ہوئی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

اسی بارے میں