’پاکستان میں بچوں کی اندرونِ ملک سمگلنگ کے لیے کوئی قانون ہی نہیں‘

بچے

پاکستان میں بچوں کی اندرون ملک سمگلنگ یا انٹرنل ٹریفکنگ کو روکنے کے لیے کسی قسم کا قانون موجود نہیں ہے۔

بچوں کے حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو استحصال کا سامنا ہے جس میں گھریلو ملازمین کے طور پر جبری مشقت سر فہرست ہے۔

’چائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے‘

پاکستان میں چائلڈ لیبر کا 'شیطانی چکر'

’رضیہ کے والدین کو بھی صلح کرنی پڑی‘

’چائلڈ لیبر تو اب ماضی کا قصہ بن چکی‘

فیصل آباد کے رہائشی محمد اشرف اور ان کے بچے ایسے ہی ایک گروہ کے ہتھے چڑھے اور انھیں اب یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے بچے کس کے پاس اور کس شہر میں کام کرتے ہیں۔

محمد اشرف کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا گذشتہ آٹھ ماہ سے غائب ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'ایک باجی ہمارے گھر آئیں اور کہا کہ بیٹے کو کام کے لیے انھیں دے دوں۔ انھوں نے ہمیں بدلے میں 20 ہزار روپے پکڑائے اور اس کے بعد آج تک میری بیٹے سے بات نہیں ہوئی۔'

Image caption انسانی حقوقی کی کارکن قدسیہ محمود کہتی ہیں کہ چائلڈ ٹریفکنگ کے بچوں کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ 'بیٹی بھی لاپتہ ہے۔ مجھے میرے دونوں بچوں کا نہیں پتہ کہ وہ کہاں پر ہیں، کس شہر یا کس کے گھر میں ہیں۔ باجی کو فون کرتا ہوں وہ فون نہیں اٹھاتی جو شحص انہوں ہمارے گھر لے کر آیا تھا وہ بھی فون نہیں اٹھا رہا۔'

بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکن بچوں کو کام کی غرض سے اپنے گھر، اہل خانہ اور ماحول سے دور منتقل کرنے کو بچوں کی اندرون ملک سمگلنگ یا انٹرنل چائلڈ ٹریفکنگ قرار دیتے ہیں۔

اس سلسلے میں کارکن قدسیہ محمود کہتی ہیں: 'حال ہی میں جو کیس سامنے آئے ہیں ان میں ہم نے یہی دیکھا کہ پہلے ایسے بچوں کو ان کے قریبی علاقے میں کام کے لیے بیچا گیا تھا۔ جس کے بعد پھر انھیں بڑے شہروں میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ سب ٹریفکنگ میں آتا ہے اور اس کے بچوں پر گہرے اثرات ہوتے ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا 'بچے کو کام کے لیے دوسرے شہر بھیجنے کا فیصلہ والدین کا ہوتا ہے اور بچے اکثر نہیں جانا چاہتے۔ پھر اس کے بعد بچوں سے کام کروانے کے لیے جس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے اس سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ بچے کو محض اس کے گھر سے نکالنا بھی تو اس کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔'

محمد اشرف اکیلے نہیں ہیں جن کے بچے انٹرنل ٹریفکنگ کا شکار ہوئے۔ چند ماہ قبل ایک کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر اسلام آباد کی عدلیہ کے ایک رکن کے گھر میں تشدد کے واقعے نے ملک بھر میں سنسنی پھیلا دی تھی۔

طیبہ کے والدین نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ انھوں نے ایک ایجنٹ کے ذریعے اپنی بیٹی کو اپنے شہر فیصل آباد میں ایک گھر میں کام کے لیے بھیجا تھا۔ انھیں نہیں معلوم تھا کہ طیبہ اسلام آباد میں کسی جج کے گھر میں کام کر رہی ہے۔

بچوں سے مشقت پاکستانی آئین اور قانون کے تحت جرم ہے لیکن اس مقصد کے لیے ان کی اندرونِ ملک سمگلنگ کے حوالے سے پاکستان میں ایسا کوئی قانون ہی نہیں ہے جو بچوں کے خلاف اس جرم کا احاطہ کرتا ہو۔

Image caption جنت بی بی

رحیم یار خان سے ایک گھنٹے کی مسافت پر جنت بی بی کا گھر ہے۔ وہ غربت کے مارے اس گاؤں کے لوگوں کے لیے کمائی کا ذریعہ بنتی ہیں۔

کراچی کے عالی شان گھروں میں صفائی ستھرائی یا ان کے مالکان کے بچے سنبھالنے کے لیے جنت اپنے گاؤں سے بچے کراچی لے جاتی ہیں اور اسی کام سے ان کے اپنے گھر کا چولھا بھی جلتا ہے۔

جنت بی بی نے بی بی سی کو بتایا: 'جو بچے چھوٹے بچوں کو سنبھالنے کا کام کرتے ہیں انھیں تو بہت کم پیسے ملتے ہیں کیونکہ مالک کہتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ کھیلنا کوئی کام تو نہیں۔ میں اپنے جان پہچان والے لوگوں کو کام کے لیے بچے دیتی ہوں۔ مالکان اکثر مجھے کرایہ دے دیتے ہیں یا کبھی مجھے ہزار، دو ہزار مل جاتے ہیں۔ وہ اکثر کہتے ہیں، ’’مجبوری ہے تو ہمارے پاس آتے ہو نا۔‘‘ ہم غریب لوگ ہیں کیا کریں؟'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں